Brailvi Books

دس عقیدے
31 - 193
	مردہ کو  ’’قُمْ‘‘ کہیں   (کہ بحکمِ الٰہی کھڑا ہوجا تو وہ) زندہ۔(1) 



________________________________
1 -    رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللّٰہ رَبُّ الْعِزَّت کے حکم سے مردے کو ’’قُمْ‘‘ (کھڑا ہوجا) کہتے تو وہ زندہ ہوجاتا چنانچہ’’ شفا شریف‘‘ میں   ہے:  ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں  اپنی بیٹی کو زندہ کرنے کی درخواست کی اور بتایا کہ وہ فلاں   وادی میں   ہے تو رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِس کے ساتھ وادی کی طرف چَل دیئے اور اُسے اُس کے نام کے ساتھ آواز دی، اَے فلانہ! اللّٰہ کے حکم سے مجھے جواب دے، وہ لڑکی اپنی قبر سے باہر نکل کر کہنے لگی: لَبَّیْکَ وَ سَعْدَیْکَ (یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں   آپ کے حضور حاضر ہوں   اور اللّٰہ تعالیٰ آپ کو خوش حال رکھے) تو رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا: ’’تیرے ماں   باپ اِسلام لے آئے ہیں   اگر تو چاہے تو میں   تجھے اُن کے پاس دُنیا میں   واپس لوٹا دوں  ؟‘‘ اُس نے کہا: ’’مجھے اپنے والدین کی ضرورت و حاجت نہیں  ، میں   نے تو اللّٰہ رَبُّ الْعِزَّت کو اِن دونوں   سے بہتر پایا ہے، یعنی وہ ان دونوں   سے زیادہ مہربان ہے۔‘‘ (شفا ، فصل فی احیاء الموتٰی و کلامہم، ۱/۳۲۰)