Brailvi Books

دس عقیدے
30 - 193
وجاہتِ انبیاء کے مقابل بِسْیَار)۔ (1)   سمع والا کے نزدیک پانچ سو برس راہ کی صدا جیسے کان پڑی آواز ہے۔(2) اور (بعطائے قادرِ مطلق) قدرت (و اختیارات)کا تو کیا پوچھنا! کہ قدرتِ قَدِیْر عَلَی الْاِطْلَاق جَلَّ جَلَالُــہٗ کی نَمونہ وآئینہ ہے، عالم عُلوِی و سِفْلی (اَقطار و اطرافِ زمین و آسمان)میں   اس کا حکم جاری، فرمانروائی ’’کُنْ‘‘ کو اس کی زباں   کی پاسداری۔(3)



________________________________
1 -    بہت زیادہ۔ حضرت ثوبان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللّٰہ تعالیٰ نے میرے لیے زمین کو سمیٹ دیا تو میں   نے اس کے مشرقوں   اور مغربوں   (یعنی تمام جوانب و اطراف) کو دیکھ لیا۔‘‘(مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب ہلاک ہذہ الامۃ الخ،ص۱۵۴۴،حدیث: ۲۸۸۹)دوسری روایت میں   حضرت  ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اللّٰہ تعالیٰ نے میرے سامنے دنیا پیش فرمادی، یہ ہی وجہ ہے کہ میں   دنیا اور اس میں   پیش آنے والے قیامت تک کے واقعات کو اپنی اس ہتھیلی کی طرح دیکھ رہا ہوں۔‘‘(مجمع الزوائد،کتاب علامات النبوۃ، باب اخبارہ بالمغیبات، ۸/۵۱۰، حدیث:۱۴۰۶۷)
2 -    اللّٰہ تعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کواِس اعلیٰ درجہ کی سماعت عطا فرمائی ہے کہ پانچ سوسال دُور کی آواز بھی آپ کو ایسی معلوم ہوتی جیسے کان میں   کہی ہوئی بات جیسا کہ حضرت ابو ذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں   : رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: میں   وہ دیکھتا ہوں   جو تم نہیں   دیکھ سکتے، میں   وہ سنتا ہوں   جو تم نہیں   سن سکتے، آسمان چَرچَراہٹ کرتا ہے، اور لازم ہے کہ چَرچَراہٹ کرے۔ الخ۔ (ترمذی، کتاب الزھد،باب فی قول النبی الخ، ۴/۱۴۰، حدیث:۲۳۱۹)اور آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت ہے۔
3 -    آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی قدرت و اختیارات کا تو کیا پوچھنا ! آپ کو توقادر ِمطلق عَزَّوَجَلَّنے اپنی قدرت ِکاملہ کاایسا نمونہ و آئینہ بنایاکہ زمین و آسمان میں   آپ کا حکم جاری، جس کےلیے جو چاہیں   حلال فرمائیں   اور جو چاہیں   حرام، اِسی طرح  امرِ شاہی ’’کُن‘‘ (یعنی آپ کا شاہی حکم کسی چیز کے بارے میں   کہنا: ہوجا) میں   آپ کی زبانِ اَقدس اور مزاج شریف کو ملحوظِ خاطر رکھا چنانچہ ارشاد ِخداوندی عَزَّوَجَلَّ ہے:
وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓىٕثَ ترجمۂ کنزالایمان : اور ستھری چیزیں   اِن کے لیے حلال فرمائے گا اور گندی چیزیں   اِن پر حرام کرے گا۔  (پ ۹، الاعراف: ۱۵۷)  
اِس سے معلوم ہوا کہ حلال و حرام کرنے کا حضورعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلام  کو رب تعالیٰ کی طرف سے اختیار دیا گیا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شارع یعنی صاحبِ شریعت اور مالکِ شریعت ہیں   چنانچہ ایک صاحب حضورعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  کی بارگاہ میں   حاضر ہوئے اور اِس شرط پر اِیمان لائے کہ میں   صرف دو ہی نمازیں   پڑھا کروں   گا تو حضورعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے ان کی یہ درخواست قبول فرمالی۔(مسند احمد،مسندالبصریین ،۷/۲۸۳،حدیث:۲۰۳۰۹)
مسلمانوں   پر پانچ نمازیں   فرض ہیں   کسی ایک نماز کا چھوڑنا حرام ہے مگر اِن صاحب نے حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامسے تین نمازیں   معاف کروالیں   ،یعنی حضورعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے باقی تین نمازوں   کا نہ پڑھنا اِن کے لیے حلال فرمادیا۔اسی طرح حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامنے اُمّ عطیہ کو ایک بار نوحہ کرنے کی اِجازت عطا فرمائی حالانکہ نوحہ یعنی مُردے کے حالات بیان کرکے رونا شرعاً حرام ہے۔ (مسلم،کتاب الجنائز،باب التشدید فی النیاحۃ،ص۴۶۶،حدیث:۹۳۷) اسی طرح حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو خاتونِ جنت فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی موجود گی میں   دوسری عورت سے نکاح کرنے سے روک دیا۔ (مرقاۃالمفاتیح،کتاب المناقب والفضائل،الفصل الاوّل،۱۰/۵۱۴) پتا چلا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلام کو اللّٰہ رَبُّ الْعِزَّت نے یہ قدرت و اختیار دیا ہے کہ جس کے لیے جو چاہیں   حلال فرمائیں   اور جو چاہیں   حرام۔ تفصیل کے لیے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تصنیف ’’الامن و العلی‘‘ کے ضمنی رسالے ’’منیۃ اللبیب ان التشریع بید الحبیب‘‘ کا مطالعہ کریں  ۔