Brailvi Books

دس عقیدے
29 - 193
(اور ہَنوز   اِن کے اِحاطۂ علم میں   وہ ہزار در ہزار، بے حد و بے کنار سَمُنْدر لہرا  رہے ہیں   جن کی حقیقت وہ جانیں   یا اُن کا عطا کرنے والا اُن کا مالک و مولیٰ جَلَّ وَ عَلَا)۔ (1) بصر (و نظر) وہ محیط(اور اس کا احاطہ اتنا بسیط)کہ شَش جِہَت(پس وپیش، چپ وراست، زیر و بالا)اس کے حضور(ان کی نگاہوں   کے رُو بَرُواِیسے ہیں   جیسے)   جِہتِ مُقَابِل (کہ بَصَارت کو ان پر اطلاعِ تام حاصل)۔ (2) دنیا اس کے سامنے اُٹھالی کہ تمام کائنات تا بروزِ قیامت ، آنِ واحد میں    پیش نظر،(3)  (تو وہ دنیا کو اور جوکچھ دنیا میں   قیامت تک ہونے والا ہے سب کو ایسے دیکھ رہے ہیں   جیسے اپنی ہتھیلی کو، اور ایمانی نگاہوں   میں   نہ یہ قدرتِ الٰہی پر دشوار، نہ عزت و



________________________________
1 -    ان کے علم کی وسعت میں   ایسے ہزاروں   سمُندر ہیں   جن کا کوئی کنارہ ہی نہیں   اور ان کی حقیقت کوئی نہیں   جانتا سوائے ان کے اور ان کے رب کے۔
2 -    اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کی نگاہ ِ مبارکہ کو وہ وسعت و گنجائش عطا فرمائی ہے کہ شَش جِہت یعنی مشرق، مغرب ، شمال ، جنوب ، اوپر اور نیچے سب کو اپنی نگاہوں   کے سامنے مکمل طور پر ملاحظہ فرمارہے ہیں  ۔
3 -    دنیا ان کے سامنے اُٹھا کر پیش کی گئی اس طرح کہ ساری کائنات قیامت کے ظاہر ہونے تک لمحہ بھر میں   اُن کی نظروں   کے سامنے۔