میں ایک شَلِنگ ذرّہ کم مقدار(1)(2) (کہ لق و دق صحرا میں اس کی اُڑان کی کیا وُقعت اور کیا قدر و منزلت)۔ علم وہ وسیع و غزیر (کثیر درکثیر)عطا فرمایا کہ علومِ اَوّلین و آخِرین اس کے بحرِ علوم کی نہریں یا جوشِشِ فُیُوض کے چھینٹے قرار پائے۔(3) (شرق تا غرب، عرش تا فرش اُنہیں دکھایا،مَلَکُوْتُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْض کا شاہد بنایا،(4) روزِ اوّل سے روزِ آخِرتک کا، سب مَا کَانَ وَمَایَکُوْن اُنہیں بتایا) (5)اَزَل سے اَبَدتک تمام غیب و شہادت (غائب و حاضر) پر اطلاعِ تام(6) (وآگاہی تمام اُنہیں ) حاصل، اِلاَّ مَا شَاءاللّٰہ
________________________________
1 - اُڑتا ہوا معمولی ذرّہ۔
2 - اللّٰہ تعالیٰ نے سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے شاہی دربار کو وہ عظمت و بلندی عطا فرمائی ہے کہ عرشِ عظیم جیسے ہزاروں وسیع و عریض تخت معمولی ذرے کی طرح گم ہوجائیں ۔
3 - نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وسیع وعریض علم کے سامنے تمام اگلوں پچھلوں کے علوم کی مثال سمندر کے سامنے نہروں یا موجوں سے اُڑنے والے قطروں کی طرح ہے۔
4 - زمین وآسمان کی سلطنت پر انہیں گواہ کیا۔
5 - ’’مَاکَانَ وَمَا یَکُوْن‘‘ کا معنی ’’مَاکَانَ مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ وَیَکُوْنُ اِلَی اٰخَرِ الْاَیَّام‘‘، یعنی روزِ اوّل آفْرِیْنِش(یعنی مخلوق کی پیدائش) سے روزِ قیامت تک جو کچھ ہوا اور ہونے والا ہے ایک ایک ذرّے کا علمِ تفصیلی ۔‘‘(فتاویٰ رضویہ،۱۵/ ۲۷۵) چنانچہ مشرق سے مغرب، زمین سے آسمان تک انہیں دکھایا، زمین وآسمان کی بادشاہت پر انہیں گواہ کیا،مخلوق کی پیدائش سے قیامت کے قائم ہونے تک جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو نے والا ہے اس کے ایک ایک ذرّے کا تفصیلی علم انہیں بتایا۔
6 - ارشادِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ ہے:
وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ۪ ترجمۂ کنزالایمان : اور اللّٰہ کی شان یہ نہیں کہ اے عام لوگو تمہیں غیب کا علم دے دے ہاں اللّٰہ چُن لیتا ہے اپنے رَسولوں سے جسے چاہے۔(پ ۴، اٰل عمرٰن:۱۷۹)حضرت سیدنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے ایک بار ہم میں کھڑے ہو کر ابتدائے آفرنیش سے قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا سب بیان فرمادیا، کوئی چیز نہ چھوڑی، جسے یاد رہا یاد رہا، جو بھول گیا بھول گیا۔(مسلم،کتاب الفتن و اشراط الساعۃ،باب اخبار النبی صلی اللّٰہ علیہ و سلم فیما یکون الی قیام الساعۃ، ص۱۵۴۵، حدیث:۲۳،ملتقطًا)مزید تفصیل کے لیے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے رسالے ’’انباء المصطفٰی‘‘ کا مطالعہ فرمائیں ۔