پہنچناممکن نہیں ۔
کُنْجِیاں خزائنِ علم و قدرت، تدبیرو تَصَرُّف کی اس کے ہاتھ میں رکھیں۔(1) عظمت والوں کو مَہ پارے (چاند کے ٹکڑے ، روشن تارے)، اور اُس کو اس نے آفتابِ عالَمِ تاب کیا کہ اس سے اِقتباسِ اَنوار کریں (عرفان و معرفت کی روشنیوں سے اپنے دامن بھریں ) (2) اور اس کے حضور ’’اَ نَا‘‘ زبان پر (اور اپنے فضائل و محاسن ان کے مقابل شمار میں ) نہ لائیں ۔(3) اس (محبوبِ اجل و اعلیٰ) کے سَرا پَردۂ عزت و اِجلال کو وہ عزت و رِفعت بخشی کہ عرشِ عظیم جیسے ہزاراں ہزار اس میں یوں گم ہوجائیں جیسے بیدائے ناپیدا کنار (وسیع و عریض بیابان جس کا کنارہ نظر نہ آئے اس)
________________________________
1 - زمین و آسمان کے خزانوں کی چابیاں ہوں یا علم و قدرت کی ، تمام آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے دستِ مبارک میں رکھ دی گئیں ، اسی طرح حکمت و حکومت کے اختیارات کی چابیاں بھی آپ ہی کو عطا کر دی گئیں ۔ ’’ بخار ی شریف‘‘ کتاب الجنائز میں ہے رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ اللّٰہ کی قسم !میں اپنے حوضِ کوثر کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور بے شک مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئی ہیں ۔‘‘(بخاری، کتاب الجنائز،باب الصلاۃ علی الشہید، ۱/ ۴۵۲، حدیث: ۱۳۴۴)
2 - اللّٰہ ربُّ الْعِزَّت نے اپنے عزت و عظمت والے بندوں کو چاند کے ٹکڑوں ا ور روشن تاروں کی مانند کیاجب کہ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تو اِیسا روشن سورج بنایا جو پوری کائنات کو اپنے نور سے منور کررہا ہے اور اِسی نور سے ہر ایک اَنوار و تجلیات حاصل کررہا ہے، چنانچہ امام بوصیری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : فَاِنَّہٗ شَمْسُ فَضْلٍ ھُمْ کَوَاکِبُھَا یُظْھِرْنَ اَنْوَارَھَا لِلنَّاسِ فِی الظُّلَم یعنی اے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ! آپ عظمت کے سورج ہیں اور سارے پیغمبر آپ کے تارے کہ سب نے آپ ہی سے لے کر اندھیرے میں آپ ہی کا نور لوگوں پر ظاہر کیا۔(قصیدۃ البردہ مع شرحہا۔۔۔الخ،ص۱۵۴)
3 - اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی جنابِ عالی کے مقابل اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھیں، اور نہ اپنے فضائل و محاسن ہر گز ہرگز بیان کریں ۔