Brailvi Books

دس عقیدے
26 - 193
	  مرکزِ دائرہ (کُن) و دائرہ ٔ مرکز کاف ونون بنایا،(1) اپنی خلافتِ کاملہ کا خِلعت رفیعُ الْمَنزِلت اُس کے قامتِ مَوزُوں   پر سجایا(2) کہ تمام افرادِ کائنات اس کے ظِلِّ ظَلِیل (سایہ مَمْدُودِ رَافَت) (3)اور ذَیلِ جَلِیل(دامنِ مَعْمُور ِ رحمت)میں   آرام کرتے ہیں  ۔(4)
	اَعَاظِم مُقَرَّبِین(5) (کہ اُس کی بارگاہِ عالی جاہ میں   قربِ خاص سے مشرف ہیں   اِن)کو (بھی) جب تک اُس مَامَنِ جہاں   (پناہ گاہِ کون و مکان)سے تَوَسُّل نہ کریں   (اُنھیں   اس کی جنابِ وَالا میں   وسیلہ نہ بنائیں  ) بادشاہِ (حقیقی  عَزَّ اِسْمُہٗ وَجَلَّ مَجْدُہٗ) تک 



________________________________
1 -    یعنی ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّ کی صفات میں   سے ایک صفت ’’صفتِ تکوین‘‘ بھی ہے جس کا آسان مفہوم یہ ہے کہ رب تعالیٰ کا حکم پاتے ہی کسی چیز کا فوراً معرضِ وجود میں   آجانا، چنانچہ بحکمِ قرآنی وہ ربِّ کریم عَزَّوَجَل صرف کلمۂ کُن(ہوجا ) ارشاد فرماتا ہے ، اور وہ چیز (فیکون) فوراً ہوجاتی ہے ، تو وہ ذات جسے رب کریم عَزَّوَجَلنے اپنا محبوب بنایا ، اُسے اپنی صفتِ تکوین کا مظہرِ اتم بھی بنایا ہے، یعنی رب کی عطا سے اُس محبوب کی بھی یہ شانیں   ہیں   کہ جب کبھی جو کچھ ارشاد فرماتے ہیں   ویسا ہی ہو جاتا ہے ، جیسا کہ مدینہ پاک میں   آپ کی دعا سے مسلسل بارش کا برسنا، اور روک دینے سے اس بارش کا فوراً رُک جانا ، درخت کو اشارے سے بلانا، حکم پاتے ہی اس کا چلا آنا، اُحُدپہاڑکو حرکت کرنے سے روکنا اور اس کا رُک جانا، چاند کو اشارہ کرنا تو اس کا دو ٹکڑے ہوجانا،ڈوبے ہوئے سورج کو واپس بلانا وغیرہ،اسی طرح اور بہت سے معجزات۔
2 -    یعنی اپنی خلافت کاملہ کا عظیم الشان لباس ان کے بدن اقدس پر سجایا۔
3 -    عنایت و مہربانی والے وسیع سائے۔
4 -    اللّٰہ تعالٰی نے اپنی مکمل نیابت وجانشینی کے سب سے بلند مرتبہ لباس سے محبوب صَلَّی اللّٰہُ  عَلَیْہِ وَسَلَّم کے جسم اقدس کو آراستہ کیا کہ کائنات کے تمام لوگ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وسیع رحمت کے سائے اور بزرگی والے دامن میں   آرام کرتے ہیں  ۔
5 -    بڑی ہی قدر و منزلت والے۔