Brailvi Books

دس عقیدے
25 - 193
نعمتوں   سے اسے نوازا، بے شمار فضائل و مَحَاسن(1)سے اسے سنوارا،  قَلْبُ و قَالِب،(2)جسم و جاں  ، ظاہر و باطن کو رَذائل (3) اور خصائلِ قَبِیحہ مَذْمومہ (4)سے پاک صاف اور مَحَامد(5) و اَخلاقِ حسنہ سے اسے آرا سْتَہ و پَیراسْتَہ کیا (6)اورقربتِ خداوندی کی راہوں   پر اُسے ڈال دیا)۔ اور یہ سب تَصَدُّق (  صَدْقہ و طفیل )ایک ذات جَامِعُ الْبَرَکَات  کا تھا(7)جسے اپنا محبوبِ خاص فرمایا، (مرتبۂ محبوبیتِ کُبرٰی سے سرفراز فرمایا کہ تمام خلق حتیّٰ کہ نبی و مرسل ومَلَکِ مُقرَّب (8)جُویائے رِضائے الٰہی ہے(9)اور وہ ان کی رِضا کا طالب)۔ (10)



________________________________
1 -    فضیلتوں  اور خوبیوں  ۔
2 -    دل اور شکل و صورت۔
3 -    بُری صفات۔
4 -    خراب اور بری عادتوں  ۔
5 -    نیک خصلتوں  ۔
6 -    اچھے اخلاق سے سجایا سنوارا۔
7 -    یہ صدقہ تمام برکتوں   کی جامع شخصیت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاتھا۔
8 -    مقرب فرشتہ۔
9 -    اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کا طالب ہے۔
10 -    جیساکہ تفسیر کبیر میں   ہے:((یَا مُحَمَّد کُلُّ اَحَدٍ یَّطْلُبُ رِضَائِیْ وَ اَنَا اَطْلُبُ رِضَاکَ))۔ یہ سب میری رضا چاہتے ہیں   اور میں   تیری رضا چاہتا ہوں   اے محمد!۔ اور اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فتاویٰ رضویہ میں   نقل فرماتے ہیں  : ((یَامُحَمَّدُ!  اَنْتَ نُوْرُ نُوْرِیْ وَسِرُّ سِرِّیْ وَ کُنُوْزُ ہِدَایَتِیْ وَخَزَائِنُ مَعْرِفَتِیْ، جَعَلْتُ فِدَاءً لَکَ مُلْکِیْ مِنَ الْعَرْشِ اِلٰی مَا تَحْتِ الاَرْضِیْنَ، کُلُّھُمْ یَطْلُبُوْنَ رِضَائِیْ وَاَنَا اَطْلُبُ رِضَاکَ یَا مُحَمَّدُ))۔اے محمد! تو میرے نور کا نور ، میرے راز کا راز، میری ہدایت کی کان، اور میری معرفت کا خزانہ ہے، میں   نے اپنا مُلک عرش سے لے کر تَحْتُ الثَّرٰی تک(یعنی زمین کے سب سے نچلے طبقے تک) سب تجھ پر قربان کردیا، عالَم میں   جو کوئی ہے سب میری رضا چاہتے ہیں   اور میں   تیری رضا چاہتا ہوں   یا محمد۔( صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ )(فتاویٰ رضویہ،۳۰ / ۱۹۷۔ ۱۹۸، ۴۹۱ ، التفسیر الکبیر، البقرۃ، تحت الایۃ:۱۴۲، ۲/۸۲، بتغیر)