ناجی،(1)جس نے حق قبول کیا) { وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ}(2) (دوسرا جہنمی وہالک،(3) جس نے قبولِ حق سے جی چرایا)، اور جس طرح پَر تَو وجود (موجودِ حقیقی جَلَّ جَلَالُہٗ) سے سب نے بَہْرَہ پایا(4) (اور اِسی اعتبار سے وہ ہَسْت و موجود کہلایا) اسی طرح فریقِ جنت کو اس کے صفاتِ کمالیہ سے نصیبۂ خاص ملا(5) (دنیاو آخرت میں اس کے لیے فَوْز و فَلاح(6)کے دروازے کُھلے اور علم و فضلِ خاص کی دولتوں سے اس کے دامن بھرے۔) دَبِستانِ (مدرسۂ) { عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ}(7) (اور دارالعلوم { عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ}(8)) میں تعلیم فرمایا (کہ جو کچھ وہ نہ جانتا تھا اُسے سکھایا پھر) { وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا} (9)نے اور رنگ آمیزیاں کیں (10) (کہ اللّٰہ تعالیٰ کا فضلِ عظیم اس پر جلوہ گُسْتَررہا،(11) مولائے کریم نے گُوناگُوں(12)
________________________________
1 - نجات پانے والا۔
2 - پ۲۵، الشوری: ۷۔
3 - ہلاک ہونے والا۔
4 - حصّہ پایا۔
5 - جس طرح اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ظل سے سب نے حصہ پایا اسی طرح جنتیوں کو اس کی صفاتِ کمالیہ سے خاص حصہ ملا۔
6 - کامیابی وکامرانی۔
7 - ترجمۂ کنزالایمان: تمہیں سکھادیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے۔(پ۵،النساء:۱۱۳)
8 - ترجمۂ کنزالایمان: آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا۔(پ۳۰،العلق:۵)
9 - ترجمۂ کنزالایمان: اور اللّٰہ کا تم پر بڑا فضل ہے۔(پ۵،النساء:۱۱۳)
10 - انعام واکرام کی بارشیں کیں ۔
11 - جلوہ فرمارہا۔
12 - طرح طرح کی۔