عقیدۂ ثانیہ(۲) :
سب سے اعلٰی، سب سے اَولٰی(1)
بَاِیں ہَمہ(2) (کہ اُس کی(3) ذاتِ کریم، دوسری ذوات کی مناسبت سے معرّا ہے(4) اور اس کی صفاتِ عالیہ اَوروں کی صِفات کی مشابہت سے مبرّا) (5)اس نے اپنی حکمتِ کاملہ (و رحمتِ شاملہ) کے مطابق عالَم (یعنی ماسوی اللّٰہ) کو جس طرح وہ (اپنے علمِ قدیم ازلی سے)جانتا ہے اِیجاد فرمایا(6) (تمام کائنات کو خِلعتِ وجود بخشا، اپنے بندوں کو پیدا فرمایا، اُنہیں کان، آنکھ، ہاتھ، پاؤں زبان وغیرہ عطا فرمائے اور اِنہیں کام میں لانے کا طریقہ اِلہام فرمایا ، پھر اَعلیٰ دَرَجَہ کے شریف جَوہَر یعنی عَقْل سے ممتاز فرمایا جس نے تمام حَیْوانات پر انسان کا مرتبہ بڑھایا، پھر لاکھوں باتیں ہیں جن کا عقل اِدراک نہیں کرسکتی تھی،(7) لہٰذا انبیاء بھیج کر کتابیں اتار کر ذَرا ذَرا سی بات بتادی اور کسی کو عذر کی کوئی جگہ باقی نہ چھوڑی)اور مُکَلَّفِین کو(جو تکلیفِ شرعی کے اَہل، اَمرونَہی کے خطاب کے قابل، بالغ عاقل ہیں )اپنے فضل وعَدْل سے دو فرقے کردیا: { فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ }(8)
(ایک جنتی و
________________________________
1 - دوسرا عقیدہ سب سے اعلیٰ اور سب سے اَولیٰ یعنی سید الانبیاء صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے بارے میں ۔
2 - یعنی ان تمام باتوں کے باوجود۔
3 - یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی۔
4 - بری ہے۔
5 - پاک ہے۔
6 - اس پاک پروردگار نے اپنی کامل حکمت اور وسیع رحمت سے اس عظیم الشان کائنات کو پیدا فرمایا۔
7 - یعنی انسانی عقل ان تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔
8 - پ۲۵،الشوری:۷۔