Brailvi Books

دس عقیدے
22 - 193
 اور اس معبودِ برحق کی اُلوہیت ورَبوبیت میں   کوئی شریک نہیں  (1) { هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌؕ-}(2)  ’’وہی آسمان والوں   کا خدا اور وہی زمین والوں   کا خدا‘‘، تو نفسِ اُلوہیت ورَبوبیت میں   کوئی اس کا شریک کیا ہوتا! اس کی صفاتِ کمال میں   بھی کوئی اس کا شریک نہیں  ،{ لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌۚ-}(3)  ’’اس جیسا کوئی نہیں  ‘‘) یونہی (یہ آیتِ کریمہ) اشتراک فی الوجودکی نفی فرماتی ہے (تو اس کی ذات بھی منزّہ اوراس کی تمام صفاتِ کمال بھی مبرّا اِن تمام نالائق اُمور سے جو اہلِ شرک وجاہلیت اس کی جانب منسوب کرتے ہیں  ، حق یہ ہے کہ وُجود اسی ذاتِ برحق کے لیے ہے، باقی سب ظِلال و پَرْتَو)    ؎ 
غیرتش غیر درجہاں   نہ گزاشت
      لاجرم عین جملہ معنی شد (4)
	(اور وحدتُ الوُجود کے جتنے معنی اور جس قدر مَفَاہیم(5)  عقل میں   آسکتے ہیں   وہ یہی ہیں   کہ وُجود واحد، موجود واحد، باقی سب اِسی کے مَظاہر(6)  اور آئینے کہ اپنی حدِّ ذات میں   اصلاً وجود و ہستی سے بہرہ نہیں   رکھتے ، اور حَاشَ ثُمَّ حَاشَ(7) یہ معنی ہر گز نہیں   کہ مَن وتَو، ما وشُما ، اِین وآں   ہر شَے خدا ہے، یہ اہلِ اِتّحاد کا قول ہے جو ایک فرقہ کافروں   کا ہے، اور پہلی بات مذہب ہے اہلِ توحید کا کہ اہلِ اسلام وہ صاحبِ اِیمانِ حقیقی ہیں  )۔



________________________________
1 -    اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے مستحق عبادت اور رب ہونے میں   کوئی شریک نہیں  ۔	            
2 -    پ ۲۵ ، الزخرف :  ۸۴۔		            
3 -    پ ۲۵، الشوری :  ۱۱۔	            
4 -    اس کی غیرت نے جہاں   میں   کوئی غیر نہ رکھا تو بلا شبہ ہر شے کا وجود اسی ذاتِ واحد کا ظل ہوا۔	            
5 -    مطالب۔	            
6 -    نظارے۔	            
7 -    ہرگز نہیں   ہرگز نہیں  ۔