Brailvi Books

دس عقیدے
20 - 193
نام رہ جائے، ہُو کا مَیْدان عدمِ بَحْت کی طرح سُنْسان، (مَحْض معدوم و یکسر وِ یران،(1) تو مرتبۂ وجود میں   صرف ایک ذات حق ہے باقی سب اِسی کے پَرتَووجود سے مَوجود ہیں  ، مرتبۂ کون میں   نورِ ابدی آفتاب ہے اور تمام عالَم اس کے آئینے، اس نسبتِ فیضان کا قدم درمیان سے نکال لیں   تو عالَم دفعۃً فَنائے محض ہوجائے کہ اسی نور کے متعددپَرتَووں   نے بے شمار نام پائے ہیں  ۔ ذاتِ باری تعالیٰ واحدِ حقیقی ہے، تغیرواختلاف کو اصلاً اس کے سَرا پَرْدہ عزت کے گِرد بَار نہیں  ،(2)پر مَظاہر کے تعدّد سے(3)یہ مختلف صورتیں  ، بے شمار نام، بے حساب آثار پیداہیں  ، نورِ اَحدِ یَّت کی تابش غیر محدود ہے،(4) اور چشمِ جسم و چشمِ عقل(5) دونوں   وہاں   نابینا ہیں  ، اور اس سے زیادہ بیان سے باہر، عقل سے وراء ہے)۔ مَوْجود واحد ہے نہ وہ واحد جو چند (اَبْعَاض واَجْزاء) (6)سے مل کر مرکب ہوا (اورشَے واحد کا نام اس پر رَوا ٹھہرا)نہ وہ واحد جو چند کی طرف تَحْلِیل پائے، (جیسا کہ انسانِ واحد یا شَے واحد کہ گوشت پوست و خون و اُستخوان(7) وغیرہا اجزاء وابعاض سے ترکیب پا کر مرکب ہوا اور ایک کہلایا، اور اس کی تَحْلِیل وتَجَزِّی اور تجزیہ اِنہیں   اعضاء واجزاء و ابعاض کی طرف ہوگا جن سے اس نے ترکیب پائی اور مرکب کہلایا کہ یہی جسم کی شان ہے، اور ذاتِ باری تعالیٰ عَزَّ شَانُہٗ  جسم و جسمانیات



________________________________
1 -    اگر ذاتِ باری تعالیٰ کی نسبت سے ایک پل کے لیے نظر ہٹائی جائے تو یہ عالَم ڈراؤنا خواب بن        کر رہ جائے۔
2 -    تبدیلی واختلاف کو اس بار گاہ رب العزت تک ہرگز رسائی نہیں  ۔
3 -    مشاہدات کی کثرت سے۔
4 -    یعنی نور الٰہی کی کوئی حد نہیں   ۔
5 -    بصارت وبصیرت۔	            
6 -    ٹکڑوں  ۔
7 -    یعنی ہڈیوں  ۔