Brailvi Books

دس عقیدے
19 - 193
 (نہ کوئی ہستی ہستی ، نہ کوئی وجود وجود) { كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗؕ  }،(1)  (’’بقا صرف اس کی وجہِ کریم کے لیے ہے باقی سب کے لیے فنا‘‘، باقی باقی، باقی فانی) (2)وجود واحد (اُسی حی وقیوم(3) ازلی ابدی کا)،موجود واحد (وہی ایک حی و قیوم ازلی ابدی)، باقی سب اعتبارات ہیں   (اعتبار کیجئے تو موجود ، ورنہ محض معدوم)۔ذرّاتِ اَکوان (یعنی موجودات کے ذرّہ ذرّہ) (4) کو اس کی ذات سے ایک نسبت مَجْہُولَۃُ الْکَیْف ہے (نامعلوم الکیفیت) جس کے لحاظ سے مَن وتُو(5) ( ماو شُما اوراِین وآں  )کو موجود و کائن(6)  کہا جاتا(اور ہَسْت وبُود(7)سے تعبیر کیا جاتا)ہے، (اگر اس نسبت کا قدم درمیان سے اُٹھالیں   ہَسْت، نَیْست اور بُود ، نا بُود ہوجائے،(8)کسی ذرّۂ موجود کا وجود نہ رہے کہ اس پر ہستی کا اطلاق رَوا ہو۔)(9)اور اس کے آفتابِ وجود کا ایک پَرْ تَو(ایک ظل، ایک عکس، ایک شُعاع) ہے کہ کائنات کا ہر ذرّہ نگاہِ ظاہر میں   جلوہ آرائیاں   کررہا ہے، (اور اس تماشا گاہِ عالم(10)کے ذرّہ ذرّہ سے اس کی قدرتِ کاملہ کے جلوے ہُوَیْدا ہیں)، (11) اگر اس نسبت و پَرْ تَوسے  (کہ ہر ذرۂ کون و مکان کو اس آفتابِ و جود حقیقی سے حاصل ہے) قطعِ نظر کی جائے (اور ایک لَحْظَہ(12) کو اس سے نگاہ ہٹالی جائے)تو عالَم ایک خوابِ پریشان کا 



________________________________
1 -    پ۲۰، القصص:۸۸۔	
2 -    اللّٰہ باقی ہے اور ہمیشہ باقی رہے گا اللّٰہکے سوا ہر چیز فنا ہوجائے گی۔
3 -    آپ زندہ اور اوروں   کا قائم رکھنے والے ۔       
4 -    یعنی کائنات کے ذرّے ذرّے۔	
5 -    میں   اور تو۔       	
6 -    پیدا شدہ اور مخلوق۔    	
7 -    حیات وزندگی۔	
8 -    زندگی فنا اور وجود وہستی ختم ہوجائے۔            	
9 -    جائز ہو۔	
10 -    یعنی کائنات۔   	
11 -    ظاہر ہیں  ۔           	
12 -    لمحہ ۔