اور حق کی پناہ میں ہے اور اسے اپنے سے افضل و اکمل جانے گا جو اعمال اس کے اس کی نظرِظاہر میں قانونِ تقویٰ سے باہر نظر آئیں گے۔
اے اللّٰہ! سب کو ہدایت اور اس پر ثبات و استقامت اور اپنے محبوبوں اور سچے پکے عقیدوں پر جہانِ گُزران سے اٹھا۔ اٰمِیْن یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن
اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ وَ اِلَیْکَ الْمُشْتَکٰی وَ اَنْتَ الْمُسْتَعَانُطوَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَی الْحَبِیْبِ الْمُصْطَفٰی وَ عَلٰی اٰلِہِ الطَّیِّبِیْنَ وَ صَحْبِہِ الطَّاہِرِیْنَ اَجْمَعِیْنَ ۔
ایمان کی حفاظت کی فکر ضروری ہے
صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:کفرو شرک سے بد تر کوئی گناہ نہیں اور وہ بھی اِرتِداد کہ یہ کُفرِ اصلی سے بھی باِعتِبار اَحکام سخت تَر ہے جیسا کہ اس کے اَحکام(جاننے)سے معلوم ہو گا۔ مسلمان کو چاہئے کہ اِس(کفر و اِرتِداد) سے پناہ مانگتا رہے کہ شیطان ہر وَقت ایمان کی گھات میں ہے اور حدیث میں فرمایاکہ' شیطان انسان کے بدن میں خون کی طرح تَیرتا ہے۔' آدَمی کو کبھی اپنے اُوپر یا اپنی طاعت (و عبادت)و اعمال پر بھروسا نہ چاہئے ، ہر وَقت خدا عَزَّوَجَل پر اعتِماد کرے اور اُسی سے بقائے ایمان کی دُعا چاہئے کہ اُسی کے ہاتھ میں قَلْب ہے اورقَلْب کو قَلْب اِسی وجہ سے کہتے ہیں کہ لَوٹ پَوٹ( اُلٹ پلٹ) ہوتا رہتا ہے ۔ ایمان پر ثابت رہنا اُسی کی توفیق سے ہے جس کے دستِ قدرت میں قَلْب ہے اور حدیث میں فرمایا کہ شرک سے بچو کہ وہ چِیونُٹی کی چال سے زیادہ مَخفی( یعنی پوشیدہ) ہے اوراس سے بچنے کی حدیثِ(پاک) میں ایک دُعا ارشاد فرمائی اسے ہر روز تین مرتبہ پڑھ لیا کرو، حُضُورِ اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد ہے کہ شرک سے محفوظ رہو گے وہ دعا یہ ہے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ اُشْرِکَ بِکَ شَیْئًا وَّ اَنَا اَعْلَمُ وَاَسْتَغْفِرُ کَ لِمَا لَا اَعْلَمُ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الغُیُوْبِ۔ (بہارِ شریعت حصّہ 9 ص172۔ 173)
(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب،ص۶۷۲)