Brailvi Books

دس عقیدے
188 - 193
عقیدۂ عاشرہ:
شریعت و طریقت
	شریعت و طریقت،دو راہیں   مُتَبائِن نہیں   بلکہ بے اِتِّباعِ شریعت، خدا تک وُصول محال۔ نہ بندہ کسی وقت کیسی ہی ریاضات و مجاہدات بجالائے اس رُتبہ تک پہنچے کہ تکالیف ِشرع اس سے ساقط ہوجائیں   اور اسے اَسْپ بے لگام و شُتُربے زمام کرکے چھوڑ دیا جائے۔
	صوفی وہ ہے کہ اپنے ہَوا کو تابعِ شرع کرے نہ وہ کہ ہَوا کی خاطر شرع سے دستبردار ہو، شریعت غذا ہے اور طریقت قُوَّت، جب غذا ترک کی جائے گی قوت آپ زوال پائے گی۔شریعت آئینہ ہے اور طریقت نظر،آنکھ پھوٹ کر نظر غیر مُتَصَوَّر، بعد اَز وصول اگر اتباعِ شریعت سے بے پروائی ہوتی تو سیّدالعالمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم اور امام الواصلین علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہٗ اس کے ساتھ احق ہوتے ، نہیں   بلکہ جس قدر قربِ زیادہ ہوتا ہے شرع کی باگیں   او ر زیادہ سخت ہوتی جاتی ہیں   حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْنَ، توہین ِشریعت کفر اور اس کے دائرہ سے خُرُوج فِسْق۔
	 صوفی صادِق عالِم سنّی صحیح العقیدہ خدا و رسول کے فرمان پر ہمیشہ یہ عقیدت رکھتا ہے کہ  ؎علمائے شرع مبین و ارثانِ خاتم النبیین ہیں   اور علومِ شریعت کے نگہبان و علمبردار، تو ان کی تعظیم و تکریم صاحبِ شریعت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی تعظیم و تکریم ہے اور اس پر دین کا     مَدار  عالِمِ مُتَدَیَّن خدا طلب ہمیشہ صوفی سے بتواضع و انکسار پیش آئے گا کہ وہ حق آگاہ



________________________________
1 -    اس پیراگراف میں   بیاض ہے یعنی کچھ عبارت درمیان سے حذف ہے اسی لئے مفتی محمد خلیل خان  برکاتی صاحب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس کو مکمل کیا وہی یہاں   لکھ کر ممتاز کر دیا  ہے۔(علمیہ)