Brailvi Books

دس عقیدے
186 - 193
جائر تھے تو الزام تو حضرت امام حسن پر آتا ہے کہ انھوں   نے کاروبارِ مسلمین و انتظامِ شَرْع و دِین باختیارِ خود ایسے شخص کو تفویض فرما دیا اور خیر خواہی اسلام کو مَعَاذَ اللّٰہ کام نہ فرمایا ۔
	 اگر مدتِ خلافت ختم ہوچکی تھی اور آپ بادشاہت منظور نہیں   فرماتے تو صحابہ حجاز میں   کوئی اور قابلیتِ نظم و نسق دین نہ رکھتا تھا جو اِنہیں  کو اختیار کیا حَاشَ لِلّٰہ! بلکہ یہ بات خود رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم تک پہنچتی ہے کہ حضور نے اپنی پیش گوئی میں   ان کے اس فعل کو پسند فرمایا اور ان کی سِیادت کا نتیجہ ٹھہرایا کَمَا فِیْ ’’صَحِیْحِ الْبُخَارِی‘‘ ۔
عقیدہ ٔثامنہ :
امامت ِصدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ
	 رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے بعد امامت ِصدیق ِاکبر بِالْقَطْع و التَّحْقِیْق حقہ راشدہ ہے، نہ غاصبہ جائِرہ، رحمت و رَافَت و  حُسْنِ سِیَادت ولحاظِ مَصْلَحَت و حمایتِ ملّت و پناہِ اُمت سے مُزَیَّن، اور عدل و داد و صِدْق و سَدَاد ورُشد و اِرشاد و قطعِ فساد و قمعِ اہلِ اِرتداد سے مُحَلّٰی۔
	اوّل تو تلویحات و تصریحات سیّدُالکائنات عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ اَفْضَلُ الصَّلَوَات وَالتَّحِیَّات اس بارے میں   بہ کثرت وارد، دوسرے خلافت اس جناب تقویٰ مآب کی باجماعِ صحابہ واقع ہوئی، اور باطل پر اجماعِ اُمّت خصوصاً اصحابِ حضرتِ رِسالت عَلَیْہِ وَعَلَیہِمُ الصَّلَاۃُوَالتَّحِیّۃُ ممکن نہیں  ۔اور مان لیا جائے تو غصب و ظلم پر اتفاق سے