Brailvi Books

دس عقیدے
185 - 193
   سے پانی پئیں  ، یوں   توحضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی سب ازواج دنیاو آخرت میں   حضور ہی کی بیبیاں   ہیں   مگر عائشہ سے محبت کا یہ عالَم ہے کہ ان کے حق میں   اِرشاد ہوا کہ ’’یہ حضور کی بی بی ہیں   دنیا و آخرت میں  ۔‘‘
	حضرت خیر النساء یعنی فاطمہ زہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو حکم ہوا ہے کہ فاطمہ ! تو مجھ سے محبت رکھتی ہے تو عائشہ سے بھی محبت رکھ کہ میں   اسے چاہتا ہوں   سوال ہوا: سب آدمیوں   میں   حضور کو کون محبوب ہیں  ؟ جواب عطا ہوا: ’’عائشہ۔‘‘
	اور زبیر وطلحہ ان سے بھی افضل کہ عشرہ مبشرہ سے ہیں  ، وہ  رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے پھوپھی زاد بھائی اور حَواری ، اور یہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے چہرۂ انور کے سِپَر وقتِ جاں   نثاری، رہے امیر معاویہ تو ان کا درجہ ان سب کے بعد ہے اور حضرت مولیٰ علی کے مقامِ رَفِیع و شانِ مَنِیع تک تو ان سے وہ دور دراز منزلیں   ہیں   جن میں   ہزاراں   ہزار رَہْوار بَرْق کردار صبا رفتار تھک رہیں   اور قطع نہ کرسکیں  ، مگر فضل صحبت ۔ ہم تو بِحَمْدِ اللّٰہ! سرکارِ اَہلِ بیت کے غلامانِ خانہ زاد ہیں   ہمیں   معاویہ سے کیا رشتہ کہ خدانخواستہ ان کی حمایت بے جا کریں   مگر ہاں   اپنی سرکار کی طرفداری اور ان کا الزام بد گویاں   سے بَری رکھنا منظور ہے کہ ہمارے شہزادۂ اکبر حضرت سِبْطِ مجتبیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حسبِ بشارت اپنے جدِّا مجد سید المرسلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے بعد اختتامِ مدّت عین مَعْرِکَۂ جنگ میں   ہتھیار رکھ دیے اور مُلک امیر معاویہ کو سپرد کردیا۔
	اگر امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَلْعِیَاذُ بِاللّٰہ کافر یا فاسق فاجر یا ظالم