سلسلہ جاری نہ ہوا حالانکہ قربِ ولایت ِامام مجتبیٰ ولایت و قربِ خواجہ سے بالیقین اَتم و اعلیٰ ، اور ظاہرِ احادیث سے سِبْطِ اصغر شہزادہ گلگوں قبا پر بھی ان کا فضل ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْن۔
عقیدۂ سابعہ :
مشاجراتِ صحابۂ کرام
حضرت مرتَضَوِی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے جنہوں نے مشاجرات و منازعات کیے، ہم اہلسنّت ان میں حق جانبِ جناب مولیٰ علی اور ان سب کو بَر غَلَط و خطا اور حضرت اَسَدُاللّٰہِی کو بدرجہا ان سے اکمل و اعلیٰ جانتے ہیں مگر بایں ہمہ بلحاظِ احادیثِ مذکورہ زبانِ طعن وتشنیع ان دوسروں کے حق میں نہیں کھولتے اور اُنہیں ان کے مراتب پر جو اِن کے لیے شرع میں ثابت ہوئے رکھتے ہیں ، کسی کو کسی پر اپنی ہوائے نفس سے فضیلت نہیں دیتے، اور ان کے مشاجرات میں دَخْل اندازی کو حرام جانتے ہیں ، اور ان کے اختلافات کو ابوحنیفہ و شافعی جیسا اختلاف سمجھتے ہیں ، تو ہم اہلسنّت کے نزدیک ان میں سے کسی ادنیٰ صحابی پر بھی طعن جائز نہیں چہ جائیکہ اُمّ المومنین صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی جنابِ رفیع میں طعن کریں ، حاش! یہ اللّٰہ و رسول کی جناب میں گستاخی ہے، اللّٰہ تعالیٰ ان کی تَطْہِیْر و بَرِیَّت میں آیات نازل فرمائے اور ان پر تہمت دھرنے والوں کو وعیدیں عذابِ الیم کی سنائے۔
حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم انھیں اپنی سب ازواجِ مطہرات میں زیادہ چاہیں ، جہاں منہ رکھ کر عائشہ صدیقہ پانی پئیں حضور اُسی جگہ اپنا لبِ اقدس رکھ کر وہیں