Brailvi Books

دس عقیدے
183 - 193
 اطاعت کیجئے اور اس کے غضب اور اَسّی(۸۰)             کوڑوں   کے اِستحقاق سے بچئے !
	اور جب ثابت ہوگیا کہ قربِ الٰہی میں   شیخین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو مزیت و تفوّق ہے تو ولایت بھی انہیں   کی اعلیٰ ہوئی مگر ایک درجہ قُرب ِالٰہی جَلَّ جَلَالُہٗ وَ رَزَقَنَا اللّٰہُ کا پر ظاہر کہ سیر اِلَی اللّٰہ میں   تو سب اَولیاء برابر ہوتے ہیں   اور وہاں   ’’ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ‘‘ کی طرح ’’لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ اَوْلِیَآئِہٖ‘‘ کہا جاتا ہے ، جب ماسوائے الٰہی آنکھوں   سے گر گیااور مرتبۂ فنا تک پہنچ کر آگے قدم بڑھا تو وہ سیر فی اللّٰہ ہے اس کے لیے انتہا نہیں   اور یہیں   تفاوتِ قُرب جلوہ گر ہوتا ہے، جس کی سیرفی اللّٰہ زائد وہی خدا سے زیادہ نزدیک، پھر بعضے بڑھتے چلے جاتے ہیں  ۔
	 اور بعض کو دعوتِ خلق کے لیے منزلِ ناسوتی عطا فرماتے ہیں   ان سے طریقہ خِرقہ وبیعت کا رواج پاتا ہے اور سلسلۂ طریقت جنبش میں   آتا ہے یہ معنی اسے مُسْتَلْزَم  نہیں  ،ان کی سَیْر فِی اللّٰہ اگلوں   سے بڑھ جائے ہاں   یہ ایک فضل جداگانہ ہے کہ انھیں   ملا اور دوسروں   کو عطا نہ ہوا، تو یہ کیا؟ اس کے سوا صدہا خصائص حضرت مولیٰ کو ایسے ملے کہ شیخین کو نہ ملے، مگر قرب و رفعتِ درجات میں   اُنہیں   کو اَفْزُونی رہی ورنہ کیا وجہ ہے کہ ارشاداتِ مذکورہ میں   اُنھیں  ان سے افضل و بہتر کہا جاتا ہے اور ان کی افضیلت کا بہ تاکیدِ اَکِیْد انکار کیاجاتا ہے حالانکہ ادنیٰ ولی، اعلیٰ ولی سے افضل نہیں   ہوسکتا ہے، آخر دیکھئے حضرت امیر کے خلفائے کرام میں   حضرت سِبْطِ اصغر وجناب خَوا جَہ حسن بصری کو تنزُّلِ ناسوتی ملا اور حضرت سِبْطِ اکبر سے کوئی