اب اَہل سنّت نے ان اَحادیث و آثار میں جو نگاہِ غور کو کام فرمایا تو تفضیل شیخین کی صَدْہَا تَصرِیحیں علی الْاِطلاق پائیں کہیں جِہَت و حِیْثِیَّت کی قید نہ دیکھی کہ یہ صرف فلاں حیثیت سے افضل ہیں اور دوسری حیثیت سے دوسروں کو اَفضیلت، لہٰذا انھوں نے عقیدہ کرلیا کہ گو فضائلِ خاصہ و خصائصِ فاضلہ حضرت مولیٰ اور ان کے غیر کو بھی ایسے حاصل جو شیخین نے نہ پائے جیسے کہ اس کا عکس بھی صادِق ہے مگر فضل مطلق کُلّی جوکثرتِ ثواب و زیادتِ قُربِ ربُّ الارباب سے عبارت ہے وہ اِنہیں کو عطا ہوا، اور اس عقیدہ کا خلاف اوّل تو کسی حدیث ِصحیح میں ہے ہی نہیں اور جو بالفرض کہیں بوئے خلاف پائی بھی تو سمجھ لے کہ یہ ہماری فہم کا قُصُور ہے ورنہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم اور خود حضرت مولیٰ و اہلِ بیتِ کرام کیوں بلا تقیید اُنہیں افضل و خیر امت و سردار اوّلین و آخرین بتاتے، کیا آیہ کریمہ: ’’ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ ‘‘ و حدیث صحیح: ((مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ)) اور خبر شَدِیْدُ الضُّعْفِ وَ قَوِیُّ الْجَرْح ’’لَحْمُکَ لَحْمِیْ وَ دَمُکَ دَمِیْ‘‘ برتقدیرِ ثبوت وغیر ذٰلک سے اُنہیں آگاہی نہ تھی یا تھی تو وہ مطلب نہ سمجھے یا سمجور اس میں تفضیلِ شیخین کا خلاف پایا تو کیونکر خلاف سمجھ لیں اور تصریحاتِ بیّنہ و قاطعۃ الدلالۃ و غَیر مُحْتَمَلَۃُ الخِلاف کو کیسے پسِ پشت ڈال دیں ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰـلَمِیْن کہ حق تبارک و تعالیٰ نے فقیر حقیر کو یہ ایسا جوابِ شافی تعلیم فرمایا کہ مُنْصِف کے لیے اس میں کفایت اور مُتَعَصِّب کو اس میں غَیْظِ بے غایت۔ یہی محبتِ علی مرتضیٰ ہے اور اس کا بھی یہی مُقْتَضٰی ہے کہ محبوب کی