ابوالقاسم طلحی ’’کتاب السنۃ‘‘ میں جناب علقمہ سے راوی: بَلَغَ عَلِیًّا اَنَّ اَقْوَامًا یُّفَضِّلُوْنَہُ عَلٰی اَبِیْ بَکْرٍ وَّ عُمَرَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَ اَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ:اَیُّہَا النَّاسُ!اِنَّہُ بَلَغَنِیْ اَنَّ اَقْوَامًا یُّفَضِّلُوْنِیْ عَلٰی اَبِیْ بَکْرٍ وَّعُمَرَ، وَ لَوْ کُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِیْہِ لَعَاقَبْتُ فِیْہِ فَمَنْ سَمِعْتُہُ بَعْدَ ھَذَا الْیَوْمِ یَقُوْلُ ھَذَا فَھُوَ مُفْتَرٍ، عَلَیْہِ حَدُّ الْمُفْتَرِیْ، ثُمَّ قَالَ: اِنَّ خَیْرَ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم اَبُوْ بَکْرٍ ثُمَّ عُمَرَ ثُمَّ اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِالْخَیْرِ بَعْدَہٗ، قَالَ:وَفِی الْمَجْلِسِ اَلْحَسَنُ بْنُ عَلِیّ فَقَالَ: وَ اللّٰہِ لَوْ سَمَّی الثَّالِثَ لَسَمَّی عُثْمٰنَ۔ ’’یعنی جناب مولی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو خبر پہنچی کہ کچھ لوگ انھیں حضرات شیخین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا پر تفضیل دیتے ہیں ، پس منبر پر تشریف لے گئے اور اللّٰہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی، پھر فرمایا: اے لوگو! مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابوبکر و عمر سے افضل بتاتے ہیں اور اگر میں نے پہلے سے سُنا ہوتا تو اس میں سزا دیتا یعنی پہلی بار تفہیم پر قناعت فرماتا ہوں پس اس دن کے بعد جسے ایسا کہتے سنوں گا تو وہ مُفْتَرِی ہے اس پر مفتری کی حد لازم ہے، پھر فرمایا: بے شک بہتر اس امت کے بعد ان نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ابوبکر ہیں پھر عمر، پھر خدا خوب جانتا ہے بہتر کو اس کے بعد، اور مجلس میں حضرت امام حسن بھی جلوہ فرما تھے انھوں نے ارشاد کیا:خدا کی قسم! اگر تیسرے کا نام لیتے تو عثمان کا نام لیتے۔‘‘ بِالْجُمْلہ احادیثِ مرفوعہ و اقوالِ حضرت مرتضوی واہلِ بیتِ نبوت اس بارے میں لَا تُعَدُّ وَ لَا تُحْصٰی ہیں کہ بعض کی تفصیل فقیر نے اپنے رسالہ ’’تفضیل‘‘ میں کی ۔