Brailvi Books

دس عقیدے
18 - 193
(اورکوئی اس کی شاہی بارگاہ کے اِردگرد بھی نہیں   پہنچ سکتا،پرندہ وہاں   پر نہیں   مارسکتا، کوئی اس میں   دخل انداز نہیں  ۔)
	تمام عزتیں   اس کے حضور پَسْت(1) ( فَرِشْتے ہوں   یا جن یا انسان یا اور کوئی مخلوق ، کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں  ، سب اس کے فضل کے محتاج ہیں  ، اور زبانِ حال وقال سے اپنی پستیوں  ، اپنی اِحْتِیاجوں   کے مُعْتَرِف(2) اور اس کے حضور سائل ، اس کی بارگاہ میں   ہاتھ پھیلائے ہوئے ، اور ساری مخلوقات چاہے وہ زمینی ہوں   یاآسمانی اپنی اپنی حاجتیں   اور مرادیں   اسی حق تعالیٰ سے طلب کرتی ہیں  ) (3) اور سب ہستیاں   اس کے آگے نَیسْت(4)



________________________________
1 -    زِیرو      محتاج۔	
2 -    اپنی حاجتوں   کا قرار کرنے والے۔	
3 -    اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں   کہ سب کے سب اِس کے سامنے ذلیل و حقیر اور بے عزت ہیں   بلکہ  وہ تو خود فرماتا ہے: وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ(پ ۳ ، اٰل عمرٰن:۲۶) ترجمۂکنزالایمان :اور جسے چاہے عزت دے۔
       وہ کون ہے جنہیں   عزت دیتا ہے؟ خود اِرشاد فرماتا ہے: 
وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠(۸)ترجمۂکنزالایمان : اور عزت تو اللّٰہ اور اُس کے رسول اور مسلمانوں  ہی کے لیے ہے مگر منافقوں   کو خبر نہیں  ۔(پ ۲۸،المنافقون :۸)
       چنانچہ حبیب عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کی تعظیم و تکریم کے لیے فرمایا : وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ ترجمۂکنزالایمان :اورمیرے رسولوں   پر ایمان  لاؤ اور اُن کی تعظیم کرو۔(پ ۶، المائدۃ :۱۲)
       اور فرماتا ہے: 
وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ ۲۶ ، الفتح :۹) ترجمۂکنزالایمان : اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو۔
4 -    فنا۔