(اورکوئی اس کی شاہی بارگاہ کے اِردگرد بھی نہیں پہنچ سکتا،پرندہ وہاں پر نہیں مارسکتا، کوئی اس میں دخل انداز نہیں ۔)
تمام عزتیں اس کے حضور پَسْت(1) ( فَرِشْتے ہوں یا جن یا انسان یا اور کوئی مخلوق ، کوئی بھی اس سے بے نیاز نہیں ، سب اس کے فضل کے محتاج ہیں ، اور زبانِ حال وقال سے اپنی پستیوں ، اپنی اِحْتِیاجوں کے مُعْتَرِف(2) اور اس کے حضور سائل ، اس کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے ہوئے ، اور ساری مخلوقات چاہے وہ زمینی ہوں یاآسمانی اپنی اپنی حاجتیں اور مرادیں اسی حق تعالیٰ سے طلب کرتی ہیں ) (3) اور سب ہستیاں اس کے آگے نَیسْت(4)
________________________________
1 - زِیرو محتاج۔
2 - اپنی حاجتوں کا قرار کرنے والے۔
3 - اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ سب کے سب اِس کے سامنے ذلیل و حقیر اور بے عزت ہیں بلکہ وہ تو خود فرماتا ہے: وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ(پ ۳ ، اٰل عمرٰن:۲۶) ترجمۂکنزالایمان :اور جسے چاہے عزت دے۔
وہ کون ہے جنہیں عزت دیتا ہے؟ خود اِرشاد فرماتا ہے:
وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠(۸)ترجمۂکنزالایمان : اور عزت تو اللّٰہ اور اُس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لیے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں ۔(پ ۲۸،المنافقون :۸)
چنانچہ حبیب عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کی تعظیم و تکریم کے لیے فرمایا : وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ ترجمۂکنزالایمان :اورمیرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور اُن کی تعظیم کرو۔(پ ۶، المائدۃ :۱۲)
اور فرماتا ہے:
وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ- (پ ۲۶ ، الفتح :۹) ترجمۂکنزالایمان : اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو۔
4 - فنا۔