Brailvi Books

دس عقیدے
179 - 193
وَاللّٰہُ الْعَظِیْمُ!اگر ہزار دفتر اِن کے شَرحِ فضائل میں   لکھے جائیں  یکے از ہزار تحریر میں   نہ آئیں       ؎ 
وَعَلٰی تَفَنُّنِ وَاصِفَیْہِ بِحُسْنِہٖ
یُغْنِی الزَّمَانُ وَ فِیْہِ مَا لَمْ یُوْصَفٖ
	مگر کثرتِ فضائل و شہرتِ فواضل چیزے دیگروافضیلت و کرامت اَمرے آخر ،’’ فضل‘‘ اللّٰہ تعالیٰ کے ہاتھ ہے جسے چاہے عطا فرمائے، { قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِۚ-یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ}۔
	اس کی کتابِ کریم اور اس کا رسولِ عظیم عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلام علی الاعلان گواہی دے رہے ہیں  کہ حضرت امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے والد ماجد مولیٰ علی کَرَّمَ اللّٰہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت کرتے ہیں   کہ وہ فرماتے ہیں  : کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَقْبَلَ اَبُوْ بَکْرٍ وَ عُمَرُ فَقَالَ:((یَا عَلِیُّ! ہٰذَانِ سَیِّدَا کُہُوْلِ اَہْلِ الْجَنَّۃِ وَ شَبَابِہَا بَعْدَ النَّبِیِّیْنَ وَ الْمُرْسَلِیْنَ)) ’’میں   خدمتِ اقدس حضور افضلُ الانبیاء صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم میں   حاضر تھا کہ ابوبکر و عمر سامنے سے آئے حضور( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم) نے ارشاد فرمایا کہ علی! یہ دونوں   سردار ہیں   اہلِ جنت کے سب بوڑھوں   اور جوانوں   کے، بعد انبیاء و مرسلین کے۔ـ‘‘
	حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سید المرسلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے راوی، حضور کا ارشاد ہے: ((اَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ خَیْرُ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَ وَ خَیْرُ اَھْلِ السَّمٰوٰتِ وَخَیْرُ اَھْلِ الْاَرْضِیْنَ اِلَّا النَّبِیِّیْنَ وَالْمُرْسَلِیْنَ)) ’’ابوبکر و عمر بہتر ہیں