Brailvi Books

دس عقیدے
178 - 193
بہر گلے کہ ازیں   چار  باغ می نگرم
بہار دامن دل می کشد کہ جا اینجا ست
	علی الخصوص شمعِ شَبِسْتانِ وِلایت، بہارِ چَمَنِسْتَانِ معرفت، امام الواصِلین، سیّد العارِفین، خاتِمِ خلافتِ نبُوَّت، فاتحِ سلاسلِ طریقت، مولی المسلمین، امیر المومنین، اَبوالْاَئِمَّۃِ الطَّاھرین اماموں   کے جَدِّ اَمجد، طاہر مُطَہِّر، قاسمِ کوثر، اَسَدُاللّٰہِ الْغَالِب،مُظْہِرُالْعَجَائِبِ وَالْغَرَائِبِ،مَطْلُوْبُ کُلِّ طَالِبٍ، سیدنا و مولانا علی بن ابی طالب کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم وَحَشَرَنَا فِیْ زُمْرَتِہٖ فِیْ یَوْمٍ عَقِیْمٍ کہ اس جناب گَردُوں   قِباب کے مناقبِ جلیلہ ومحامد ِجمیلہ جس کثرت و شہرت کے ساتھ ہیں   دوسرے کے نہیں  ۔ حضراتِ شیخین ، صَاحِبَیْن صِہْرَین وَزیرَین امیرَین مُشِیْرَین ضَجِیْعَیْن رَفِیْقَین سیّدنا ومولانا عبداللّٰہ العتیق ابوبکر صدیق و جناب حق مآب ابو حفص عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی شانِ وَالا سب کی شانوں   سے جدا ہے اور ان پر سب سے زیادہ عنایتِ خدا اور رسولِ خدا جَلَّ جَلَالُہٗ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم ہے، بعد انبیاء و مرسلین و ملائکہ مقربین کے جو مرتبہ ان کا خدا کے نزدیک ہے دوسرے کا نہیں   اور رب تبارک و تعالیٰ سے جو قرب و نزدیکی اور بارگاہِ عرش اِشْتِباہِ رسالت میں   جو عزت و سر بلندی ان کا حصہ ہے اوروں   کا نصیبہ نہیں  ،اور منازلِ جنت و وزابِ بے مِنَّت میں   اِنہیں   کے درجات سب پر عالی، فضائل و فواضل وحَسَنات وطَیِّبات میں  اِنہیں   کو تَقَدُّم و پیشی۔ ہمارے ائمہ و علماء نے اس میں   مستقل تصنیفیں  فرما کر سعادتِ کونین و شرافتِ دارَین حاصل کی، ورنہ غیر مُتَناہی کا شمار کس کااختیار،