رسول عَزَّ مَجْدُہٗ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے اتنا یقین کرلیا کہ سب اچھے اور عدل وثقہ، تقی، نقی، اَبرار ہیں ، اور ان تفاصیل پر نظر گمراہ کرنے والی ہے، نظیر اس کی عِصْمَتِ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ الثَّـنَاء ہے کہ اہلِ حق شاہراہِ عقیدت پر چل کر مقصود کو پہنچے، اور اَربابِ باطل تفصیلوں میں خوض کر کے مَغَاک بد دینی میں جا پڑے۔ ٭کہیں دیکھا!!!…{ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى}٭کہیں سنا!!!… { لِیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْۢبِكَ وَ مَا تَاَخَّرَ } ٭کبھی موسی و قبطی کا قصہ یاد آیا!!! ٭کبھی داؤد اُورِیّاکا فسانہ سن پایا!!! لگے چوں و چرا کرنے، تسلیم و گردن نِہَادوں کے زینہ سے اُترنے، پھر ناراضی خدا و رسول کے سوا اور بھی کچھ پھل پایا؟ اور {خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا} نے { لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ } کا دن دکھایا۔ {اِلَّا ٓاَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ} { اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ }۔
اَللّٰھُمَّ الثَّبَاتَ عَلَی الہُدٰی اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیُّ الْاَعْلٰی
عقیدہ ٔسادسہ:
عشرہ مبشرہ و خلفائے اربعہ
اب ان سب میں افضل و اعلیٰ و اکمل حضرات عشرۂ مُبشرہ ہیں اور ان میں خلفائے اربعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْن اور اِن چار اَرکانِ قصرِ ملَّت وچار اَنہارِ باغِ شریعت کے خصائص وفضائل، کچھ ایسے رنگ پر واقِع ہیں کہ ان میں سے جس کسی کی فضلیت پر تنہا نظر کیجئے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ ہیں یہی ہیں ان سے بڑھ کر کون ہوگا؟ ؎