Brailvi Books

دس عقیدے
176 - 193
 ’’تقی‘‘ جانتے ہیں  اور تفاصیلِ احوال پر نظر حرام مانتے، جو فعل کسی کا اگر ایسا منقول بھی ہوا جو نظر ِقاصر میں   ان کی شان سے قدرے گرا ہوا ٹھہرے ،اسے مَحْمِلِ حَسَن پر اُتارتے ہیں  ، اور اللّٰہ کا سچا قول {رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ} سُن کر آئینۂ دل میں   یک قلم زنگ ِتفتیش کو جگہ نہیں   دیتے، رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم حکم فرما چکے: ((اِذَا ذُکِرَ اَصْحَابِیْ فَاَمْسِکُوْا)) ’’جب میرے اصحاب کا ذکر آئے تو باز رہو۔‘‘ ناچار اپنے آقا کا فرمانِ عالی شان اوریہ سخت وعیدیں  ، ہولناک تَہدیدیں   سُن کر زبان بند کرلی اور دل کو سب کی طرف سے صاف کر لیا جان لیا کہ ان کے رُتبے ہماری عقل سے وَراء ہیں   پھر ہم اُن کے معاملات میں   کیا دَخل دیں  ، ان میں   جو مشاجرات واقع ہوئے ہم ان کا فیصلہ کرنے والے کون؟    ؎ 
گدائے خاک نشینی تو حافظا مخروش
رموز ِمملکت خویش خسرواں   دانند
	حاشا کہ ایک کی طرف داری میں   دوسرے کو بُرا کہنے لگیں   یا ان نِزاعوں   میں   ایک فریق کو دنیا طلب ٹھہرائیں  ، بلکہ بِالْیَقِیْن جانتے ہیں   کہ وہ سب مَصَالِحِ دِین کے خَواسْتْگار تھے جس کے اِجتہاد میں  جو بات دین ِالٰہی و شرعِ رسالت پناہی جَلَّ جَلَا لُہٗ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے لیے اصلح وانسب معلوم ہوئی اختیار کی، گو اجتہاد میں   خطا ہوئی اور ٹھیک بات ذہن میں   نہ آئی لیکن وہ سب حق پر ہیں   اُن کا حال بِعَیْنِہٖ ایسا ہے جیسا فُروعِ مذہب میں   ابو حنیفہ و شافعی کے اختلافات، نہ ہرگز ان مُنازعات کے سبب ایک دوسرے کو گمراہ فاسق جاننا، نہ ان کا دشمن ہوجانا بِالْجُمْلَہ ارشاداتِ خدا وَ