Brailvi Books

دس عقیدے
175 - 193
 شاملہ سے خدا و رسول نے حضرت صدِّیقِ اَعظم ، جناب فاروقِ اکبرو حضرت مُجَہِّزُ جَیْشِ العُسْرَۃ و جناب اُمُّ المؤمنین محبوبۂ سیِّد العالمین عائشہ صدیقہ بنتِ صدیق و حضرات طَلْحہ و زبیر و معاویہ ، وغیرھم رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اِلٰی یَوْمِ الدِّیْن کو خارج  فرما دیا!!! اور تمہارے کان میں   رسول نے کہہ دیا کہ ’’اَصْحَابِیْ‘‘ سے ہماری مراد، اور آیت میں   ضمیر ’’ھُمْ‘‘ (کے مصداق) ان لوگوں   کے سِوا ہیں   جو تم ان کے اے خوارج! (اور اے رَوافِض) دشمن ہو گئے اور عِیَاذًابَاللّٰہ لعن طعن سے یاد کرنے لگے۔ یہ نہ جانا کہ یہ دشمنی در حقیقت رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے دشمنی ہے اور ان کی ایذاء حق تبارک و تعالیٰ کی ایذائ، مگر اے اللّٰہ! تیری برکت والی رحمت اور ہمیشگی والی عنایت اس پاک فرقہ اہلِ سنّت وجماعت پر جس نے تیرے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے سب ہم نشینوں   اور گلستانِ صحبت کے گُل چِینوں   کو نگاہِ تعظیم و اِجلال سے دیکھنا اپنا شِعار و دِثار کرلیا اور سب کو چرخِ ہدایت کے ستارے اور فلکِ عزت کے سیّارے جاننا عقیدہ کر لیا کہ ہر ہر فردِ بشر اُن کا سرور ِ عُدول و اَخیار و اَتقیاء و اَبرار کا سردار، تابعین سے لے کر تابقیامت اُمت کا کوئی ولی کیسے ہی پایہ عظیم کو پہنچے، صاحبِ سلسلہ ہو خواہ غیر اِن کا، ہرگز ہرگز ان میں   سے ادنیٰ سے ادنیٰ کے رتبہ کو نہیں   پہنچتا، اور ان میں   ادنیٰ کوئی نہیں  ، رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ارشادِ صادِق کے مطابق اوروں   کاکوہِ اُحد برابر سونا ان کے نیم صاع   جَو کے ہمسر نہیں  ، جو قُربِ خدا اِنہیں   حاصل دوسرے کو میسر نہیں  ، اور جو درجاتِ عالیہ یہ پائیں   گے غیر کو ہاتھ نہ آئیں   گے، ان سب کو بالاجمال     پَرلے درجے کا ’’بِرّ‘‘ و