Brailvi Books

دس عقیدے
174 - 193
 رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ سَلَّم اس کے محبوب و سید المحبوبین، کیا عقلِ سلیم تجویز کرتی ہے کہ ایسا قدیر ایسے عظیم ذِی وجاہت، جانِ محبوبی و کانِ عزت کے لیے خَیارِ خَلق کو جلیس و انیس و یارو مددگار مقرر نہ فرمائے، جو اُن میں   سے کسی پر طعن کرتا ہے جنابِ بارِی تعالیٰ کے کمالِ حکمت و تمامِ قدرت   یا رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی غایت ِمحبوبیت و نہایت ِمنزلت پر حرف رکھتا ہے، اسی لیے سرورِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں  : 
	اَللّٰہَ اَللّٰہَ فِیْ اَصْحَابِیْ، لَا تَتَّخِذُوْھُمْ غَرَضًا مِّنْ بَعْدِیْ، فَمَنْ اَحَبَّھُمْ فَبِحُبِّیْ اَحَبَّھُمْ وَ مَنْ اَبْغَضَھُمْ فَبِبُغْضِیْ اَبْغَضَھُمْ، وَ مَنْ اٰذَاھُمْ فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللّٰہَ وَ مَنْ اٰذَی اللّٰہَ فَیُوْشِکُ اَنْ یَّاْخُذَہٗ ’’خدا سے ڈرو! خدا سے ڈرو! میرے اصحاب کے حق میں  ، اُنہیں   نشانہ نہ بنا لینا، میرے بعد جو اُنہیں   دوست رکھتا ہے میری محبت سے اُنہیں   دوست رکھتا ہے، اور جو اُن کا دشمن ہے میری عداوت سے ان کا دشمن ہے، جس نے اُنہیں   ایذا دی اُس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللّٰہ کو ایذا دی، اور جس نے اللّٰہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اِس کو گرفتار کرلے۔ رواہ الترمذی وغیرہ۔
	اب اے خارجیو،ناصبیو! کیا رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اس ارشادِ عام اور جناب ِبارِی تعالیٰ نے آیۃ کریمہ: {رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ} سے جناب ذوالنُّورَین و حضرت اسدُاللّٰہِ الغَالِب و حضرات سِبْطَیْن کَرِیْمَیْن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْنَ ، یا اے شِیْعو! اے رافِضِیو! اِن احکامِ