Brailvi Books

دس عقیدے
173 - 193
   گے جسے اِن کا استاذ بنائے، اسے سرور عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ’’اُستاذ ُالاستاذ‘‘ ٹھہرائیے، یہ وہی ہیں   جنہیں   حق تبارک و تعالیٰ رسولِ کریم مکینِ اَمین فرماتا ہے: نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے سوا دوسرے کے خادم نہیں   اَکابر صحابہ و اَعَاظِم اَولیاء کو اگر ان کی خدمت ملے دو جہاں   کی فخر و سعادت جانیں  ، پھر یہ کس کے خدمت گار یا غَاشِیَہ بَردَار ہوں   گے!
عقیدۂ خامسہ :
اصحاب سیّد المرسلین و اہلِ بیت کرام
	ان کے بعد اَصحابِ سیِّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ ہیں   اور اُنہیں   میں   حضرت بَتُول، جگر پارۂ رسول، خاتونِ جہاں  ، بانویٔ جِناں  ، سیدۃُ النِّسَاء فا طِمہ زَہرا اور اس دو جہاں   کی آقا زادی کے دونوں   شہزادے، عرش کی آنکھ کے دونوں   تارے، چرخِ     سِیادت کے مَہ پارے، باغِ تَطْہِیر کے پیارے پھول، دونوں   قرۃُالعینِ رسول، اِمامین کَرِیمَین سَعِیدَین شَہِیدَین تَقِیَّیْن نَقِیَّیْن نَیِّرَین طاہِرَین ابو محمد حسن و ابوعبداللّٰہ حسین، اور تمام مادَرانِ اُمت، بانْوَانِ رسالت عَلَی الْمُصْطَفٰی وَعَلَیْہِمْ کُلُّہُمُ الصَّلَاۃُ وَالتَّحِیَّۃُ میں  داخل کہ صحابی ہر وہ مسلمان ہے جو حالتِ اسلام میں   اس چہرۂ خدا نُما کی زیارت سے مُشَرَّف ہوا اور اسلام ہی پر دنیا سے گیا، ان کی قَدْر و منزِلت وہی خوب جانتا ہے جو سیِّد المُرسَلِین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی عزت و رِفعت سے آگاہ ہے، آفتابِ نِیمْروز سے روشن تَر کہ محب جب قدرت پاتا ہے اپنے محبوب کو صحبت ِبَد سے بچاتا ہے، حق تعالیٰ قادِرِ مُطْلَق اور