سردار کو حکم فرماتا ہے: { اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ} یہ وہ ہیں جنہیں خدا نے راہ دکھائی تو تو اِن کی پیروی کر! اور فرماتا ہے: { اِتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًاؕ} ’’تو پیروی کر شریعت ِابراہیم کی جو سب ادیانِ باطلہ سے کِنارہ کَش ہو کر دین ِحق کی طرف جھک آیا۔
ان کی اَدنیٰ توہین مثل سید المرسلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کفر ِقطعی، اور کسی کی نسبت، صدیق ہوں خواہ مرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اِن کی خَادِمی وَ غَاشِیَہ بَرْدَاری سے بڑھا کر دعویٔ ہَمْسَرِی محض بے دینی، جس نگاہِ اِجلال و توقیر سے اُنہیں دیکھنا فرض حاشا کہ اس کے سَو حصے سے ایک حصہ دوسرے کو دیکھیں ، آخر نہ دیکھا کہ صدیق و مرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا جس سرکارِ ا بد ِقرار کے غلام ہیں ، اُسی کو حکم ہوتا ہے: ان کی راہ پر چل اور اُن کی اِقتداء سے نہ نکل۔
عقیدہ ٔرابعہ:
اعلٰی طبقہ،ملائکہ مقربین
اِن کے بعد اَعلیٰ طبقہ ملائکہ مقربین کا ہے مِثْل ساداتِنا وموالِینا جبرائیل و میکائیل واسرافیل وعزرائیل وحَمَلَۂ عرشِ جلیل، صَلَوَاتُ اللّٰہِ وَ سَلَامُہٗ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ۔ اِن کے عُلُوِّ شان وَ رِفعتِ مکان کو بھی کوئی ولی نہیں پہنچتا اور ان کی جناب میں گستاخی کا بھی بِعَیْنِہٖ وہی حکم۔
جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام’’مِنْ وَجْہٍ‘‘رسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے استاذ ہیں ۔ قَالَ تَعَالٰی: {عَلَّمَہُ شَدِیْدُ الْقُوٰی} پھر وہ کسی کے شاگرد کیا ہوں