Brailvi Books

دس عقیدے
170 - 193
	مردہ کو ’’قُمْ‘‘ کہیں   زندہ اور چاند کو اِشارہ کریں   فوراً دو پارہ ہو۔ جو چاہتے ہیں   خدا وہی چاہتا ہے کہ یہ وہی چاہتے ہیں   جو خدا چاہتا ہے۔مَنشورِ خلافتِ مُطلَقہ و تفویضِ تام ان کے نامِ نامی پر پڑھا گیا اور سکہ و خطبہ ان کا مَلائِ ادنیٰ سے عالَمِ بَالا تک جاری ہوا، دنیا و دِیں   میں   جو جسے ملتا ہے ان کی بارگاہِ عرش اِشْتِباہ سے ملتا ہے، وہ بَالَا دَسْت حاکم کہ تمام مَاسِوَی اللّٰہ ان کا محکوم، اور ان کے سِوا عَالَم میں   کوئی حاکم نہیں  ، سب اُن کے محتاج اور وہ خدا کے محتاج۔ قرآنِ عظیم ان کی مدح و ستائش کا دَفتر۔ نام ان کا ہر جگہ نامِ الٰہی کے برابر، اَعْنِیْ سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْن، خَاتَمُ النَّبِیِّیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن اَکرَمُ الْاَوَّلِینَ وَالآخِرِین قَائِدُ الغُرِّ المُحَجَّلِیْن سِرُّ اللّٰہِ الْمَکْنُوْن دُرُّ اللّٰہِ الْمخْزُوْن، سُرُوْرُ الْقَلْبِ الْمَحْزُوْن، عَالِمُ مَا کَانَ وَ مَا سَیَکُوْنُ تَاجُ الْاَتْقِیَاء، نَبِیُّ الْاَنْبِیَائ، مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ رَبِّ الْعَالَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہٖ وَصَحبِہٖ اَجمَعِین وَ بَارَکَ وَسَلَّمَ اِلٰی یَومِ الدِّین۔بَاِیں   ہَمَہ خدا کے بندہ و  محتاج ہیں   ، حَاشَ لِلّٰہِ کہ عَیْنِیَّت یا مِثْلِیَّت کا گمان کافر کے سوا مسلمان کو ہوسکے!
	 خزانۂ قدرت میں   ممکن کے لیے جو کمالات مُتَصَوَّر تھے سب پائے، کہ دوسرے کو ہَم عِنانی کی مجال نہیں  ، مگر دائرۂ عبدیت واِفْتِقار سے قدم نہ بڑھا نہ بڑھ سکے، اَلْعَظَمَۃُ لِلّٰہِ، خدائے تعالیٰ سے ذات و صفات میں   مشابہت کیسی۔
 	 نَعْماء خداوندی کے لائق جو شکر و ثناء ہے اسے پورا پورا بجا نہ لاسکے نہ ممکن کہ بجالائیں   کہ جو شکر کریں   وہ بھی نعمت آخَر، مُوجِبِ شکر دیگر، ِالٰی مَالَانِھَایَۃَ