Brailvi Books

دس عقیدے
17 - 193
’’اور وہ اپنے حکم میں   کسی کو شریک نہیں   کرتا‘‘، نہ اَفعال میں   کہ { هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ }(1) ’’کیا اللّٰہکے سوا کوئی اور خالق ہے‘‘، نہ سلطنت میں   کہ { وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ }(2) ’’اور بادشاہی میں   کوئی اس کا شریک نہیں  ‘‘ ، تو جس طرح اس کی ذات اور ذاتوں   کے مشابہ نہیں  یونہی اس کی صفات بھی صفاتِ مخلوق کے مُمَاثل (3)      نہیں  ۔
	اور یہ جو ایک ہی نام کا اِطلاق اس پر اور اس کی کسی مخلوق پر دیکھا جاتا ہے جیسے: علیم ، حکیم، کریم ، سمیع ، بصیر اور ان جیسے اور، تو یہ محض لفظی مُوافَقت (4) ہے نہ کہ معنوی شرکت،(5) اس میں   حقیقی معنی میں   کوئی مشابہت نہیں  ولہٰذا مثلاً) اوروں   کے علم وقدرت کو اس کے علم وقدرت سے (محض لفظی یعنی) فقط ع ، ل، م، ق، د، ر، ت میں   مُشَابَہَت ہے (نہ کہ شرکتِ معنوی)، (6) اس (صوری و لفظی موافقت)سے آگے (قدم بڑھے تو)اس کی تعالِی وتکبر (برتری و کبریائی)کا سَرا پَردہ(7) کسی کو بَار نہیں   دیتا، 



________________________________
1 -    پ۲۲، فاطر: ۳۔
2 -    پ۱۸، الفرقان: ۲۔
3 -    مانند، مشابہ۔
4 -    لفظوں     کی بناوٹ کا ایک جیسا ہونا۔
5 -    حقیقی شمولیت۔
6 -    اوروں     کو اس کے علم و قدرت سے صرف اور صرف ع،ل ، م، ق، د، ر،ت میں     مشابہت ہے یعنی لفظی اور ظاہری موافقت اور مشابہت ، یعنی اللّٰہ رب العزت اپنی ذاتی صفات علم و قدرت کے اعتبار سے علیم و قدیر ہے جب کہ دوسرے اِسی کی عطاء سے عارضی طور پر علیم و قدیر ہیں     تو اب اِن بندوں     پر جو علم و قدرت کا اطلاق ہو رہا ہے وہ صرف اور صرف ایک صلاحیت کا نام ہونے کی وجہ سے ہے نہ یہ کہ وہ بھی اللّٰہ کی طرح علیم و قدیر ہوگئے ، یا اس کے علم و قدرت میں     قدرے شریک ہوگئے بلکہ کسی ایک کو بھی اس کے علم و قدرت کے مقابلہ میں     نہ کوئی علم و معرفت ہے نہ ہی کوئی طاقت وقدرت، اسی طرح اور صفات کا معاملہ ہے۔ 
7 -    شاہی خیمہ، شاہی بارگاہ۔