رنگ آمیزیاں کیں ، اور یہ سب تَصَدُّق ایک ذات جَامِعُ الْبَرَکَات کا تھا جسے اپنا محبوبِ خاص فرمایا، مرکز ِدائرہ و دائرہ ٔ مرکز کاف ونون بنایا، اپنی خلافت ِکاملہ کا خِلعت رفیعُ الْمَنزِلت اُس کے قامت ِمَوزُوں پر سجا کہ تمام افرادِ کائنات اس کے ظِلِّ ظَلِیل اور ذَیلِ جَلِیل میں آرام کرتے ہیں ۔
اَعَاظِم مُقَرَّبِین کو جب تک اُس مَامَنِ جہاں سے تَوَسُّل نہ کریں بادشاہ تک پہنچنا ممکن نہیں ۔ کُنْجِیاں خزائنِ علم و قدرت، تدبیرو تَصَرُّف کی اس کے ہاتھ میں رکھیں ۔ عظمت والوں کو مَہ پارے ، اور اُس کو اس نے آفتابِ عالَم تاب کیا کہ اس سے اِقتباسِ اَنوار کریں اور اس کے حضور ’’اَ نَا‘‘ زبان پر نہ لائیں ۔ اس کے سَرا پَردۂ عز ت و اِجلال کو وہ رِفعت و وُسعت بخشی کہ عرشِ عظیم جیسے ہزاراں ہزار اس میں یوں گم ہوجائیں جیسے بیدائے ناپیدا کنار میں ایک شَلِنگ ذرّہ کم مقدار، علم وہ وسیع و غزیر عطا فرمایا کہ علومِ اَوّلین و آخِرین اس کے بحرِ علوم کی نہریں یا جوشِشِ فُیُوض کے چھینٹے قرار پائے۔ اَزَل سے اَبَدتک تمام غیب وشہادت پر اطلاعِ تام حاصل اِلاَّمَاشَاء اللّٰہ ، بصر وہ محیط کہ شَش جِہَت اس کے حضور جِہتِ مُقَابِل، دنیا اس کے سامنے اُٹھالی کہ تمام کائنات تا بروزِ قیامت، آنِ واحد میں پیش نظر، سمع والا کے نزدیک پانچ سو برس راہ کی صدا جیسے کان پڑی آواز ہے۔ اور قدرت کا تو کیا پوچھنا! کہ قدرتِ قدیر علی الاطلاق جَلَّ جَلَالُـہٗ کی نَمونہ وآئینہ ہے، عالم عُلوِی و سِفْلی میں اس کا حکم جاری، فرمانروائی ’’کُنْ‘‘ کو اس کی زباں کی پاسداری۔