باقی سب اعتبارات ہیں ذرّاتِ اَکوان کو اس کی ذات سے ایک نسبت مَجْہُولَۃُ الْکَیْف ہے جس کے لحاظ سے مَن وتُوکو موجود و کائن کہا جاتا ہے،اور اس کے آفتابِ وجود کا ایک پَرْ تَوہے کہ ہر ذرّہ نگاہِ ظاہر میں جلوہ آرائیاں کررہا ہے،اگر اس نسبت و پَرْ تَوسے قطعِ نظر کی جائے تو عالَم ایک خوابِ پریشان کا نام لے، ہُو کا مَیْدان عدمِ بَحْت کی طرح سُنْسان۔ موجود واحد ہے نہ وہ واحد جو چند سے مل کر مُرَکَّب ہوا نہ وہ واحد جو چند کی طرف تَحْلِیل پائے، نہ وہ واحد جو بہ تُہْمت حُلُولِ عَیْنِیّت اَوجِ وحدَت سے حَضِیْضِ اِثنینیت میں آئے۔ ھُوَوَلَامَوْجُوْدٌاِلاَّھُو۔ آیۃ کریمہ: { سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ } جس طرح شِرک فِی الْاُلُوْہِیَّت کو رَدّ کرتی ہے یونہی اِشْتِرَاک فِی الْوُجُود کی نفی فرماتی ہے ؎
غیرتش غیر درجہاں نہ گزاشت
لاجرم عین جملہ معنی شد
عقیدۂ ثانیہ:
سب سے اعلٰی، سب سے اَولٰی
بَاِیں ہَمہ اس نے اپنی حکمت ِکاملہ کے مطابق عالَم کو جس طرح وہ جانتا ہے اِیجاد فرمایااور مُکَلَّفِین کواپنے فَضْل وعَدْل سے دو فرقے کردیا: { فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ } { وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ }، اور جس طرح پَر تَو وجود سے سب نے بَہْرَہ پایا اسی طرح فریق ِجنت کو اس کے صفاتِ کمالیہ سے نصیبۂ خاص ملا دَبِستانِ { عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ} میں تعلیم فرمایا { وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا } نے اور