"اِعْتِقَادُ الْاََحْبَابِ فِی الْجَمِیْل ِوَالمُصْطَفٰی وَالْاٰل ِوَالْاَصْحَابِ"
رسالے کا متن
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ وَاٰلِہِ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاھِرِیْنَ وَصَحْبِہِ
الْمَکَرَّمِیْنَ الْمُعَظَّمِیْنَ وَاَوْلِیَاءِ اُمَّتِہٖ وَعُلَمَاءِ مِلَّتِہٖ وَعَلَیْنَا مَعَھُمْ اَجْمَعِیْنَ ط
عقیدۂ اُولٰی:
ذات وصفاتِ باری تعالیٰ
حضرت حق سُبْحَانَہٗ وَتَبَارَکَ وَتَعَالٰی شَانُـہٗ واحد ہے نہ عدد سے، خالق ہے نہ علّت سے ، فَعَّال ہے نہ جَوارِح سے،قریب ہے نہ مُسافت سے، مَلِکِ بے وزیر، والی بے مُشِیر،حیات۱ و کلام۲ و سمع۳ و بصر۴ و ارادہ۵ و قدرت۶ و علم۷ وغیرھا تمام صفاتِ کمال سے ازلاً وابداً موصوف، تمام شِیُون وشِیْن و عَیْب سے اَوَّلًا وَاٰخِرًا بَری، ذاتِ پاک اس کی نِدّوضِد، شبیہ و مِثْل و کَیْف و کَم و شَکْل و جِسْم و جِہَت و مکان و اَمَدو زَمان سے مُنَزَّہ، نہ والد ہے نہ مَولود، نہ کوئی شے اس کے جوڑ کی اور جس طرح ذاتِ کریم اس کی مُناسبتِ ذَوات سے مُبَرَّا، اُسی طرح صفاتِ کمالیہ اس کی مُشابہتِ صفات سے مُعَرَّا ، اوروں کے علم وقدرت کو اس کے علم وقدرت سے فقط ’’ع ، ل، م، ق، د، ر، ت ‘‘میں مُشَابَہَت ہے اس سے آگے اس کی تعالِی و تکبر کا سَرا پردہ کسی کو اپنے میں بَار نہیں دیتا، تمام عزتیں اس کے حضور پَسْت اور سب ہستیاں اس کے آگے نیست { كُلُّ شَیْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗؕ }۔ وجود واحد، موجود واحد،