Brailvi Books

دس عقیدے
166 - 193
 عَلَی الْحَبِیْبِ الْمُصْطَفٰی وَ عَلٰی اٰلِہِ الطَّیِّبِیْنَ وَ صَحْبِہِ الطَّاہِرِیْنَ اَجْمَعِیْنَ ۔(1)
رسالہ: "اِعْتِقَادُ الْاََحْبَابِ فِی الْجَمِیْل ِوَالمُصْطَفٰی وَالْاٰل ِوَالْاَصْحَابِ" ختم ہوا۔ 

مسلمان کو کافِر کہنا کیسا؟
 صَدْرُالشَّرِیْعَہ بَدْرُ الطَّريقہ حضرتِ علامہ مَولانامفتی محمدامجد علی اَعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:'کسی مُسلمان کو کافِر کہا تو تعزِیر (یعنی سزا)ہے۔ رہا یہ کہ وہ قائِل(یعنی مسلمان کو کافر کہنے والا)خود کافِر ہوگا یا نہیں، اِس میں دو صُورَتیں ہیں:(1) اگر اسے مسلمان جانتا ہے تو کافِرنہ ہوا اور(2)اگر اسے کافِر اِعتِقاد کرتا (یعنی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ یہ کافر ہے)تو خود کافِر ہے کہ مسلمان کو کافِر جاننا دینِ اسلام کو کُفْرجاننا ہے اور دینِ اسلام کوکُفْرجاننا  کُفْر ہے۔ ہاں اگر اس  شخص میں کوئی ایسی بات پائی جاتی ہے جس کی بِنا پر تَکفیرہوسکے اوراس نے اُسے کافِر کہااور کافِر جانا تو(کہنے والا)کافِر نہ ہوگا۔ (دُرِّمُختار، رَدُّالْمُحتار ج 6 ص 111) نیز فرمایا :(مسلمان کوبطور گالی)بدمذہب، مُنافِق، زِندیق ، یہودی، نصرانی، نصرانی کا بچّہ، کافِر کا بچّہ کہنے پر بھی تَعزِیر (سزا)ہے۔" (بہارِشریعت حصّہ 9 ص 126، 127،دُرِّمُختارج 6 ص 112 ، اَلْبَحْرُ الرَّائِق ج5 ص74) البتّہ جو واقِعی کافِر ہے اُس کو کافِر ہی کہيں گے ۔ (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب،ص۵۴، ۵۵)



________________________________
1 -    اے اللّٰہ! تیرے ہی لیے سب تعریفیں   ہیں  ، اور تیری ہی بارگاہ میں   شکایت کی جاتی ہے، اور  تجھ ہی سے مدد طلب کی جاتی ہے،نیکی کرنے کی طاقت نہیں   اور گناہ سے بچنے کی قوت نہیں   مگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی کی مدد سے جو بلند و بالا عظمتوں   والا ہے، اور اللّٰہ  تعالیٰ دُرود بھیجے اپنے چُنے ہوئے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم پر، اور ان کی پاکیزہ آل اور تمام مقدس صحابہ پر۔