Brailvi Books

دس عقیدے
163 - 193
	آخر نہ دیکھا کہ سیّد المعصومین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم رات رات بھر عبادات و نوافل میں   مشغول اور کارِ اُمّت کے لیے گریاں   و ملول رہتے،(1) نمازِ پنجگانہ تو حضور پر فرض تھی ہی، نمازِ تَہَجُّد کا ادا کرنا بھی حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم پر لازم بلکہ فرض قرار دیا گیا، جب کہ اُمّت کے لیے وہی سنت کی سنت ہے۔(2)
	حضرت سیدالطائفہ جنید بغدادی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے عرض کیا گیا کہ کچھ لوگ زُعْم(3)  کرتے ہیں   کہ احکامِ شریعت تو وصول کا ذریعہ تھے اور ہم واصل ہوگئے(4) یعنی اب ہمیں   شریعت کی کیا حاجت! فرمایا: ’’وہ سچ کہتے ہیں  ، واصل ضرور ہوئے مگر کہاں   تک؟ جہنم تک۔ چور اور زانی ایسے عقیدے والوں   سے بہتر ہیں   اگر ہزار برس جیوں   تو فرائض و واجبات تو بڑی چیز ہیں   جو نوافل و مستحبّات مقرر کر دیئے ہیں   بے عذرِ شرعی(5) ان میں   کچھ کم نہ کروں  ۔‘‘(6)
	تو خلق پر تمام راستے بند ہیں   مگر وہ جو رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی نشانِ قدم کی پیروی کرے    ؎



________________________________
1 -    امت کے معاملے میں   اشکبار و رنجیدہ رہتے۔
2 -    معجم اوسط،من اسمہ بکر، ۲/۲۷۴،حدیث:۳۲۶۶، سنن کبری ، کتاب النکاح،باب  ما وجب علیہ من قیام اللیل، ۷/۶۲، حدیث: ۱۳۲۷۲۔
3 -    یعنی گمان ۔
4 -    شریعت کے احکام تو اللّٰہ تک پہنچنے کا ذریعہ تھے ہم تو اللّٰہ تک پہنچ گئے۔
5 -    بغیر کسی شرعی مجبوری کے۔
6 -    الیواقیت والجواہر، المبحث السادس والعشرون، ص۲۰۶۔