Brailvi Books

دس عقیدے
162 - 193
 احکامِ شرع کا اتباع لازم و ضرور نہ رہتا یا بندہ اس میں   مختار ہوتا) تو سیّد العالمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم اور امام الواصلین علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہٗ اس کے ساتھ احق ہوتے (اور ترکِ بندگی و اتباعِ شرع کے باب میں   سب سے مقدم و پیش رَفْتْ) (1)
	 نہیں   (یہ بات نہیں   اور ہرگز نہیں  ) بلکہ جس قدر قربِ (حق) زیادہ ہوتا ہے شرع کی باگیں   او ر زیادہ سخت ہوتی جاتی ہیں   (2) (کہ)  حَسَنَاتُ الْلاَ بْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّبِیْنَ (3) (ابرار کی نیکیاں   بھی مقربین کے لیے عیب ہوتی ہیں  ) (4)  ع
نزدیکاں   رابیش بود حیرانی
(قریب والوں   کو حیرت زیادہ ہوتی ہے۔)
  اور    ع
جن کے رُتبے ہیں   سِوا، ان کو سوا مشکل ہے۔ (5)



________________________________
1 -    مقام مقصودکو پالینے کے بعد اگر شریعت کی پیروی لازم نہ ہوتی اور انسان کو بالکل اختیار ہوتا کہ جو چاہے کرے جو چاہے نہ کرے تو حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام اور حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جن کا مرتبہ ارفع و اعلیٰ ہے وہ اس بات کے زیادہ حق دار تھے کہ شریعت کی اتباع نہ کریں  ، نہ عبادت کریں   نہ احکامِ خداوندی کی پیروی کریں  ، لیکن جب انہوں   نے بھی اپنی زندگی عبادات میں   گزاری تو ہم اور آپ کس گنتی میں   ہیں  ۔
2 -    جس قدر اللّٰہ تعالٰی سے نزدیکی اور اس کی بارگاہ میں   رسائی زیادہ ہوتی جاتی ہے شریعت کیگرفت اور مواخذہ (یعنی پکڑ) اتنا ہی سخت ہوجاتا ہے۔
3 -    کشف الخفاء ،حرف الحاء المہملۃ،۱/۳۱۸۔
4 -    نیک لوگوں   کی نیکیاں   بھی اللّٰہ تعالٰی کے برگزیدہ بندوں   کے نزدیک عیب شمار ہوتی ہیں   کیونکہ وہاں   ترکِ اولیٰ کو بھی گناہ سے تعبیر کیا جاتا ہے حالانکہ ترک اولیٰ ہرگز گناہ نہیں  ۔
5 -    جن کا مقام زیادہ یعنی ارفع واعلی ہوتا ہے ان کو مشکلات بھی زیادہ ہوتی ہیں  ، یا ان کا امتحان بھی بڑا ہوتا ہے، یا ان کو مجاہدے وریاضتیں   بھی زیادہ کرنی پڑتی ہیں  ۔