Brailvi Books

دس عقیدے
160 - 193
 توڑ کر راہِ ابلیس(1) مانتا ہے، مگر حاشا، طریقت ِحقّہ راہِ ابلیس نہیں   قطعاً راہِ خدا ہے) (2) نہ بندہ کسی وقت کیسی ہی ریاضات و مجاہدات بجالائے (کیسی ہی ریاضتوں  ، مجاہدوں   اور چِلَّہ کشیوں   میں   وقت گزارا جائے) (3) اس رُتبہ تک پہنچے کہ تکالیف ِ شرع (شریعت ِ مطہرہ کے فرامین و احکامِ امر ونہی) اس سے ساقط ہوجائیں   اور اسے اَسْپ بے لگام(4) وشُتُر بے زمام(5)  کرکے چھوڑ دیا جائے۔
	(قرآن عظیم میں   فرمایا: { اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ }(6) ’’بے شک اسی سیدھی راہ پر میرا رب ملتا ہے۔‘‘اور فرمایا: { وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُۚ-وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ ۔۔۔الاٰیۃ}(7) شروع رکوع سے احکامِ شریعت بیان کرکے فرماتا ہے:ـ’ ’اور اے محبوب! تم فرما دو کہ یہ شریعت میری سیدھی راہ ہے تو اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور راستوں   کے پیچھے نہ لگ جاؤ کہ وہ تمہیں   خدا کی راہ سے جدا کردیں   گے۔‘‘ دیکھو! قرآنِ عظیم نے صاف فرما دیا کہ شریعت ہی صرف وہ راہ ہے جس کا مُنْتَہَا(8)  اللّٰہ ہے، اور جس سے وصول الی اللّٰہ ہے،(9)اس کے سوا آدمی جو راہ چلے گا اللّٰہ کی راہ سے دُور پڑے گا۔



________________________________
1 -    شیطان کا راستہ۔
2 -    مگر ہرگز نہیں  ، حق کا راستہ شیطان کا نہیں   بلکہ صرف اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی کا راستہ ہے۔
3 -    کیسی ہی نفس کشی ، یادِ الٰہی میں   مشغولیت، اور گوشہ نشینی اختیار کرجائے۔
4 -    سرکش گھوڑا۔
5 -    بغیر نکیل کا اونٹ۔
6 -    پ۱۱، ہود: ۵۶۔
7 -    پ۷، الانعام: ۱۵۳۔
8 -    جس کی آخری حد۔                          
9 -    اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تک رسائی ہے۔