Brailvi Books

دس عقیدے
16 - 193
تغیر پایا جانا،(1) یا اس کے اوصاف کا متغیّر ہونا، یا اس کے اوصاف کا مخلوق کے اوصاف کے ما نِنْد ہونا، یہ تمام اُمور اس کے لیے محال ہیں   ، یا یوں   کہئے کہ ذاتِ باری تعالیٰ ان تمام حوادِث وحوائج(2)سے پاک ہے جو خاصّۂ بَشَرِیَّت ہیں  ۔)(3)
	نہ والد ہے نہ مَولود، (نہ وہ کسی کا باپ ہے نہ کسی کا بیٹا، کیونکہ کوئی اس کا مُجانِس وہم جنس نہیں  ، اور چونکہ وہ قدیم ہے اور پیدا ہونا حادث و مخلوق کی شان ) نہ کوئی شے اس کے جوڑ کی (یعنی کوئی اس کا ہمتا،کوئی اس کا عدیل نہیں،(4)مثل و نظیر و شبیہ سے پاک ہے اور اپنی رَبوبیت والوہیت میں   صفاتِ عظمت و کمال کے ساتھ موصوف۔)
	اور جس طرح ذاتِ کریم اس کی مناسبتِ ذَوات سے مُبَرَّا، اُسی طرح صفاتِ کمالیہ اس کی مشابہتِ صفات سے مُعَرَّا ، (اس کا ہر کمال عظیم اور ہر صفت عالی، کوئی مخلوق کیسی ہی اشرف و اعلیٰ ہو اس کی شریک کسی حیثیت سے ، کسی درجہ میں   نہیں   ہوسکتی)،مسلمان پرلَآ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہماننا، اللّٰہسبحانہ وتعالیٰ کو اَحَدٌ، صَمَدٌ، لَاشَرِیْکَ لَہٗجاننا فرضِ اوّل و مَدارِ ایمان ہے کہ اللّٰہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں  ،نہ ذات میں   کہ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ (اللّٰہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں)نہ صفات میں   کہ { لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْءٌۚ-}(5)’’اس جیسا کوئی نہیں  ‘‘، نہ اسماء میں   کہ { هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا}(6) ’’کیااس کے نام کا دوسرا جانتے ہو؟‘‘ نہ اَحکام میں   کہ { وَ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا}(7)



________________________________
1 -    تبدیلی کا ہونا۔       
2 -    ضروریات۔       
3 -    انسانی خصوصیات ہیں    ۔
4 -    یعنی کوئی اس کی برابری کانہیں    ، کوئی اس کی طرح نہیں    ۔
5 -    پ ۲۵، الشوری: ۱۱۔	
6 -    پ۱۶، مریم: ۶۵۔
7 -    پ۱۵، الکہف:۲۶۔