مدار ہے،(1) شریعت ہی مُحِک ومعیار ہے(2) اور حق و باطل کے پرکھنے کی کسوٹی۔
شریعت’’ راہ‘‘(3) کو کہتے ہیں اور شریعتِ محمدیہ عَلٰی صَاحِبِہَا الصَّلاۃُ وَالتَّحِیَّۃُ کا ترجمہ ہے: ’’محمد رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی راہ۔‘‘ا وریہ قطعاً عام و مطلق ہے نہ کہ صرف چند احکامِ جسمانی سے خاص، یہی وہ راہ ہے کہ پانچوں وقت ہر نماز بلکہ ہر رکعت میں اس کا مانگنا اور اس پر صبر و استقامت کی دُعا کرنا ہر مسلمان پر واجب فرمایا ہے کہ ’’ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ‘‘(4) (ہم کو سیدھا راستہ چلا) ہم کو محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی راہ پر چلا، ان کی شریعت پر ثابت قدم رکھ۔
یونہی طریق، طریقہ، طریقت راہ کو کہتے ہیں نہ کہ پہنچ جانے کو، تو یقیناً طریقت بھی راہ ہی کا نام ہے، اب اگر وہ شریعت سے جدا ہو تو بشہادتِ قرآنِ عظیم خدا تک نہ پہنچائے گی بلکہ شیطان تک، جنت تک نہ لے جائے گی بلکہ جہنم میں ، کہ شریعت کے سوا سب راہوں (5) کو قرآنِ عظیم باطل و مردود فرما چکا۔
لاجرم ضرور ہوا (6) کہ طریقت یہی شریعت ہے اسی راہِ روشن(7) کا ٹکڑا ہے، اس کا اس سے جدا ہونا محال و نا سزا ہے،(8) جو اسے شریعت سے جدا مانتا ہے اسے راہِ خدا سے
________________________________
1 - اَساس وبنیاد ہے۔
2 - کسوٹی اور جانچ پڑتال کا طریقہ ہے۔
3 - یعنی سیدھے راستے۔
4 - پ۱، الفاتحہ: ۶۔
5 - طریقوں ، راستوں ۔
6 - یہ بات ثابت ہوگئی۔
7 - شریعت ِمحمدی۔
8 - ناممکن ونامناسب ہے۔