عقیدۂ عاشرہ(۱۰):
شریعت و طریقت(1)
شریعت(2) و طریقت،(3) دو راہیں مُتَبَائِن نہیں (کہ ایک دوسرے سے جدا اور ایک دوسرے کے خلاف ہوں ) بلکہ بے اِتِّباعِ شریعت خدا تک وُصول محال۔(4) شریعت تمام اَحکامِ جسم وجان وروح وقلب وجملہ عُلُوْمِ اِلٰہِیَّہ(5) و مَعارِفِ نا مُتَنَاہِیَہ(6) کو جامع ہے جن میں سے ایک ایک ٹکڑے کا نام طریقت و معرفت ہے، و لہٰذا باجماعِ قطعی جملہ اولیائے کرام کے تمام حقائق کو شریعت ِمطہرہ پر عرض کرنا(7) فرض ہے،ا گر شریعت کے مطابق ہوں حق ومقبول ہیں ورنہ مردود و مخذول (مطرود و نامقبول)، (تو یقیناً قطعاً شریعت ہی اصْل کار ہے،(8) شریعت ہی مناط و
________________________________
1 - دسواں عقیدہ شریعت اور طریقت کے بارے میں ۔
2 - شریعت حضور اقدس سید عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اقوال ہیں ۔(فتاویٰ رضویہ، ۲۱ /۴۶۰)
3 - طریقت حضور (عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَام)کے افعال ہیں ۔(فتاویٰ رضویہ،۲۱/۴۶۰) ملا علی قاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی لکھتے ہیں : اسلام کے ظاہر کو شریعت اور باطن کو طریقت کہتے ہیں ، شریعت بدن کا حصہ ہے اور طریقت قلب کا حصہ ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح،کتاب الایمان،باب الاعتصام بالکتاب۔۔۔الخ،الفصل الثانی،۱/۴۱۹،تحت الحدیث:۱۷۱)
4 - پہنچنا ناممکن۔
5 - اللّٰہ تَعَالٰی کی ذات وصفات کے متعلق تمام علوم۔
6 - اس کے لا متناہی ہونے کی معرفت۔
7 - پیش کرنا۔
8 - مقصود اصلی ہے۔