Brailvi Books

دس عقیدے
158 - 193
عقیدۂ عاشرہ(۱۰):
شریعت و طریقت(1)
	شریعت(2)  و طریقت،(3) دو راہیں   مُتَبَائِن نہیں   (کہ ایک دوسرے سے جدا اور ایک دوسرے کے خلاف ہوں  ) بلکہ بے اِتِّباعِ شریعت خدا تک وُصول محال۔(4)   شریعت تمام اَحکامِ جسم وجان وروح وقلب وجملہ عُلُوْمِ اِلٰہِیَّہ(5) و مَعارِفِ نا مُتَنَاہِیَہ(6)        کو جامع ہے  جن میں   سے ایک ایک ٹکڑے کا نام طریقت و معرفت ہے، و لہٰذا باجماعِ قطعی جملہ اولیائے کرام کے تمام حقائق کو شریعت ِمطہرہ پر عرض کرنا(7)  فرض ہے،ا گر شریعت کے مطابق ہوں   حق ومقبول ہیں   ورنہ مردود و مخذول (مطرود و نامقبول)، (تو یقیناً قطعاً شریعت ہی اصْل کار ہے،(8) شریعت ہی مناط و



________________________________
1 -    دسواں   عقیدہ شریعت اور طریقت کے بارے میں  ۔
2 -    شریعت حضور اقدس سید عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اقوال ہیں  ۔(فتاویٰ رضویہ، ۲۱ /۴۶۰)
3 -    طریقت حضور (عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَام)کے افعال ہیں  ۔(فتاویٰ رضویہ،۲۱/۴۶۰) ملا علی قاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی لکھتے ہیں  : اسلام کے ظاہر کو شریعت اور باطن کو طریقت کہتے ہیں  ، شریعت بدن کا حصہ ہے اور طریقت قلب کا حصہ ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح،کتاب الایمان،باب الاعتصام بالکتاب۔۔۔الخ،الفصل الثانی،۱/۴۱۹،تحت الحدیث:۱۷۱)
4 -    پہنچنا ناممکن۔
5 -    اللّٰہ تَعَالٰی کی ذات وصفات کے متعلق تمام علوم۔
6 -    اس کے لا متناہی ہونے کی معرفت۔
7 -    پیش کرنا۔
8 -    مقصود اصلی ہے۔