Brailvi Books

دس عقیدے
157 - 193
 رکھو(1)   کہ جسے کہتا سنو: ’’ہم اماموں   کا قول نہیں   جانتے ہمیں   تو قرآن و حدیث چاہیے۔‘‘ جان لو کہ یہ گمراہ ہے ، اور جسے کہتا سنو کہ ’’ہم حدیث نہیں   جانتے ہمیں   صرف قرآن درکار ہے۔‘‘ سمجھ لو کہ یہ بد دین، دین ِخدا کا بد خواہ ہے۔(2)
	مسلمانو! تم ان گمراہوں   کی ایک نہ سُنو، اور جب تمہیں   قرآن میں   شُبْہہ ڈالیں   تم حدیث کی پناہ لو، اگر حدیث میں   ایں   و آں  (3) نکالیں   تم اَئِمَّۂ دِین(4) کا دامن پکڑو، اس درجے پر آکر حق و باطل صاف کھل جائے گا اور اِن گمراہوں   کا اڑایا ہوا سارا غبار حق کے برستے ہوئے بادلوں   سے دُھل جائے گا اور اس وقت یہ ضَالّ مُضِلّ طائفے(5)  بھاگتے نظر آئیں   گے {كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ(۵۰)فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍؕ(۵۱)}  (گویا وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہوں   کہ شیر سے بھاگے ہوں  ) (6) (الصارم الربانی ملخصًا) (7)



________________________________
1 -    یعنی دل پر یہ لکھ لو۔
2 -    یعنی کسی مذہب سے تعلق نہ رکھنے والا یہ شخص اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے دین کا دشمن ہے۔
3 -    بحث وحجت، چوں   وچرا۔
4 -    جیسے امام اعظم وغیرہ۔
5 -    خود بھی گمراہ اور دوسروں   کو گمراہ کرنے والے فرقے۔
6 -    پ۲۹، المدثر:  ، ۵۰،۵۱۔
7 -    عقیدہ ختمِ نبوت، الصارم الربانی، ۲/۴۷۹تا۴۸۲۔