Brailvi Books

دس عقیدے
156 - 193
 کا ذکر آیات و احادیث میں   نہیں  ، مثلاً: باری عَزَّوَجَلَّ کا جہل، محال ہونا،(1) قرآن وحدیث(2) میں   اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے علم واِحاطہ کا لاکھ جگہ ذکر ہے مگر امتناع و اِمکان  کی بحث کہیں   نہیں  ،(3)  پھر کیا جو شخص کہے کہ واقع میں   تو بے شک اللّٰہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے، عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ ہے، کوئی ذرّہ اس کے علم سے چھپا نہیں  مگر ممکن ہے کہ جاہل ہوجائے، تو کیا وہ کافر نہ ہوگا کہ اس کے اِمکان کا سلب صریح(4)قرآن میں   مذکور نہیں  ، حاش لِلّٰہ! ضرور کافر ہے اور جو اسے کافر نہ کہے خود کافر، تو جب ضروریاتِ دین ہی کے ہر جزئیہ کی تصریح صریح(5)  قرآن و حدیث میں   ضرور نہیں   تو ان سے اُتر کر اور کسی درجے کی بات پر یہ مڑچڑا پن(6)  کہ ہمیں   تو قرآن ہی میں   دکھاؤ ورنہ ہم نہ مانیں   گے نِری جہالت ہے یا صریح ضلالت،(7)          مگر جنون و تعصب(8)  کا علاج کسی کے پاس نہیں  ،تو خوب کان کھول کر سُن لو اور لوحِ دل  پر نقش کر



________________________________
1 -    یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا بے علم ہونا، ناممکن ہے۔
2 -    ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ اور ’’رسالہ‘‘ میں  : ’’قرآن عظیم‘‘ ہے جبکہ ’’الصارم الربانی‘‘ میں   ’’قرآنوحدیث‘‘ ہے اس لیے ہم نے اصل سے دیکھ کر وہی کر دیا۔(عقیدہ ختمِ نبوت،الصارم الربانی،۲/۴۸۲)
3 -    یعنی قرآن وحدیث میں   یہ بات صراحت کے ساتھ کہیں   نہیں   کہ اللّٰہ تعالیٰ کے لیے جہل (یعنی لاعلمی) محال ہے ، اسی طرح یہ بحث بھی صراحت کے ساتھ نہیں   ملتی کہ اللّٰہ تعالیٰ کے لیے جہالت ممکن ہے یا نہیں  لیکن اس کے باوجود یہ عقیدہ رکھنا ضروریاتِ دین سے ہے کہ ربّ عَزَّوَجَلَّ کے لیے جہالت ولاعلمی ہر حال میں   ناممکن ہے کیونکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہر چیز کو جانتا ہے۔
4 -    صراحت کے ساتھ علم کی نفی۔
5 -    ہر حصہ کی وضاحت۔
6 -    ضد و ہٹ دھرمی۔
7 -    کھلی گمراہی۔
8 -    پاگل پن و ضد۔