گمراہ، چہ جائیکہ کافر۔(1)
ان میں سے ہر بات اپنے ہی مرتبے کی دلیل چاہتی ہے، جو فَرقِ مَراتِب(2) نہ کرے اور ایک مرتبے کی بات کو اس سے اعلیٰ درجے کی دلیل مانگے وہ جاہل بے وقوف ہے یا مکّار فَیْلْسُوف(3) ع
ہر سخن و قتے ہر نکتہ مقامے دارد
(ہر بات کا کوئی وقت اور ہر نکتے کا کوئی خاص مقام ہوتا ہے۔ت)
اور ع
گرفرق مراتب نہ کنی زندیقی
(اگر تُو مراتب کے فرق کو ملحوظ نہ رکھے تو زندیق(4)ہے۔)
اور بالخصوص قرآنِ عظیم بلکہ حدیث ہی میں تصریح صریح(5) ہونے کی تو اصلاً ضرورت نہیں حتی کہ مرتبہ اعلیٰ، اعنی(6) ضروریاتِ دین میں بھی۔
بہت باتیں ضروریاتِ دین سے ہیں جن کا منکر یقیناً کافر مگر بالتصریح(7) اِن
________________________________
1 - پھر کافر وگمراہ کیسے کہہ سکتے ہیں ۔
2 - درجات کی تمیز، رُتبوں کا امتیاز۔
3 - دھوکے باز، فریبی۔
4 - بے دین ۔
5 - واضح صراحت۔
6 - میری مراد۔
7 - صراحت کے ساتھ۔