Brailvi Books

دس عقیدے
154 - 193
{2}…ضروریاتِ مذہبِ اہلسنّت و جماعت:
	 ان کا ثبوت بھی دلیلِ قطعی سے ہوتا ہے، مگر ان کے قطعی الثبوت ہونے میں   ایک نوعِ شُبہہ اور تاویل کا احتمال ہوتا ہے اسی لئے ان کا منکر کافر نہیں   بلکہ گمراہ، بدمذہب ، بد دین کہلاتا ہے۔
{3}…ثابتات محکمہ:
	ان کے ثبوت کو دلیل ظنی کافی جب کہ اس کا مفاد ، اکبر رائے ہو   کہ جانبِ خلاف کو مطروح و مُضْمَحِل اور التفاتِ خاص کے ناقابل بنادے، اس کے ثبوت کے لیے حدیثِ اَحاد، صحیح یا حسن کافی، اور قول سوادِ اعظم و جمہور علماء کا سندِ وافی (1) ((فَاِنَّ یَدَ اللّٰہِ عَلَی الْجَمَاعَۃِ)) (اللّٰہ تعالیٰ کا دستِ قدرت جماعت پر ہوتا ہے۔ ت) (2)   ان کا منکر وضوحِ امر  کے بعد (3)   خاطی و آثم خطا کارو گناہگار قرار پاتا ہے، نہ بددین و گمراہ، نہ کافر و خارج اَز اسلام۔ (4)
{4}…ظنّیاتِ محتملہ:
	 ان کے ثبوت کے لیے ایسی دلیلِ ظنی بھی کافی جس نے جانبِ خلاف کے لیے (5) بھی گنجائش رکھی ہو، ان کے منکر کو      صرف مُخطی (6) و قصور وار کہا جائے گا نہ (7)   گنہگار، چہ جائیکہ



________________________________
1 -    بڑے بڑے علمائے حقہ کی سب سے بڑی جماعت کی بات دلیل کے لیے کافی۔
2 -    نسائی،کتاب تحریم الدم،باب قتل من فارق الجماعۃ۔۔۔الخ،ص۶۵۶،حدیث:۴۰۲۷۔
3 -    حکم کے ظاہر ہونے کے بعد۔
4 -    اسلام سے باہر۔
5 -    اختلاف کی جانب۔
6 -    غلطی سے خطا کرنے والا۔
7 -    کہ۔