Brailvi Books

دس عقیدے
153 - 193
{1}…  ضروریاتِ دین: (1)
	ان کا ثبوت قرآنِ عظیم یاحدیثِ متواتِر یااجماعِ قطعی قَطْعِیّات الدَّلالات واضِحۃُ الاِفادات سے ہوتا ہے جن میں   نہ شُبْہے کی گنجائش نہ تاویل کو راہ، اور ان کا منکر یا ان میں   باطل تاویلات کا مرتکب کافر ہوتا ہے۔



________________________________
1 -    فتاویٰ رضویہ جلد اول صفحہ ۱۸۱ پر ضروریاتِ دین کی یہ تعریف کی گئی ہے: فُسِّرَتِ الضَّرُوْرِیَّاتُ بِمَا یُشْتَرَکُ فِیْ عِلْمِہِ الْخَوَاصّ وَالْعَوَام۔ ضروریاتِ دین کی تفسیر یہ کی گئی کہ وہ دینی مسائل جن کو خواص وعوام سب جانتے ہوں  ۔ 
مزید اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں  :میں   کہتا ہوں   کہ عوام سے وہ لوگ مراد ہیں   جن کا دین کے ساتھ تعلق اور علمائِ دین کے ساتھ میل جول ہے، ورنہ بہت سے جاہل دیہاتی خصوصاً ہندوستان اور مشرق میں   ایسے ہیں   جو کئی ضروریاتِ دین کو نہیں   جانتے ، یہ نہیں   کہ وہ ان اُمور کے مُنکِر ہیں   بلکہ ان سے غافل ہیں   ، نہ پہچاننا اور کسی چیز کے عدم کا پہچاننا اور ہے اگرچہ جہل مرکب ہی ہو۔( فتاویٰ رضویہ،۱/ ۱۸۱-۱۸۲)
مصنف ’’بہارِ شریعت‘‘ امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی ضروریاتِ دین کی تعریف کچھ اس طرح کرتے ہیں  : ضروریاتِ دین وہ مسائلِ دین ہیں   جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں  ، جیسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی وحدانیت، انبیا کی نبوت، جنت و نار، حشر و نشر وغیرہا، مثلاً یہ اِعتقاد کہ حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خاتم النبیین ہیں  ، حضور ( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے بعد کوئی نیا نبی نہیں   ہوسکتا۔ عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں   جو طبقۂ علماء میں   نہ شمار کیے جاتے ہوں  ، مگر علما کی صحبت سے شرفیاب ہوں   اور مسائلِ علمیہ سے ذوق رکھتے ہوں  ، نہ وہ کہ کوردہ اور جنگل اور پہاڑوں   کے رہنے والے ہوں   جو کلمہ بھی صحیح نہیں   پڑھ سکتے، کہ ایسے لوگوں   کا ضروریاتِ دین سے ناواقف ہونا اُس ضروری کو غیر ضروری نہ کر دے گا، البتہ ان کے مسلمان ہونے کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ ضروریاتِ دین کے مُنکِر نہ ہوں   اور یہ اِعتقاد رکھتے ہوں   کہ اسلام میں   جو کچھ ہے حق ہے، ان سب پر اِجمالاً ایما ن لائے ہوں  ۔ (بہارِ شریعت،۱/۱۷۲-۱۷۳)