مسلمانوں میں رائج ہے، نہ دوزخ کا کوئی وجود خارجی(1) ہے بلکہ دنیا میں اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی سے جو کُلْفَت(2) روح کو ہوئی تھی بس اسی روحانی اذیت کا اعلیٰ درجہ پر محسوس ہونا، اسی کا نام دوزخ اور جہنم ہے، یہ سب کفر قطعی ہے۔
یونہی یہ سمجھنا کہ نہ جنت میں میوے ہیں نہ باغ، نہ محل ہیں نہ نہریں ہیں ، نہ حوریں ہیں نہ غلمان ہیں ، نہ جنت کا کوئی وجود خارجی ہے بلکہ دنیا میں اللّٰہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی جو راحت روح کو ہوئی تھی بس اسی روحانی راحت کا اعلیٰ درجہ پر حاصل ہونا اسی کا نام جنت ہے، یہ بھی قطعاً یقینا کفر ہے۔
یونہی یہ کہنا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے قرآنِ عظیم میں جن فرشتوں کا ذکر فرمایا ہے نہ ان کا کوئی اصل وجود ہے نہ ان کا موجود ہونا ممکن ہے ، بلکہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی ہر ہر مخلوق میں جو مختلف قسم کی قوتیں رکھی ہیں جیسے پہاڑوں کی سختی، پانی کی رَوانی، نباتات کی فُزُونی(3) ، بس اِنہیں قوتوں کا نام فرشتہ ہے ، یہ بھی بِالْقَطْعِ وَ الْیَقِیْن(4) کفر ہے۔
یونہی جن وشَیَاطِین کے وجود کا انکار، اور بدی(5) کی قوت کا نام جن یا شیطان رکھنا کفر ہے اور ایسے اقوال کے قائل یقیناً کافر اور اسلامی برادری سے خارج ہیں ۔
فائدہ ٔجلیلہ: (6) مانی ہوئی باتیں چار۴ قسم ہوتی ہیں :
________________________________
1 - ظاہری وجود۔
2 - رنج، تکلیف۔
3 - نشو ونما۔
4 - قطعی ویقینی طور پر۔
5 - بُرائی۔
6 - شان دار فائدہ۔