Brailvi Books

دس عقیدے
150 - 193
 جانب سے ہے سب حق ہے اور سب پر ہماراا یمان)   ؎
مصطفی اندر میاں   آنگہ کہ می گوید بعقل
آفتاب اندر جہاں   آنگہ کہ می جوید سہا
(مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم تشریف فرما ہوں   تو اپنی عقل سے کون بات کرتا ہے، سورج دنیا میں   جلوہ گر ہو تو چھوٹے سے ستارے کو کون ڈھونڈتا ہے ۔ت)
(قال الرضا:      ؎
عرش پہ جا کہ مرغِ عقل(1)  تھک کے گرا غش آگیا(2)
اور ابھی منزلوں   پرے(3) پہلا ہی آستان(4) ہے(5)
	یاد رکھنا چاہیے کہ وحی اِلٰہی کا نزول(6)، کتبِ آسمانی کی تنزیل،(7) جن و ملائکہ،



________________________________
1 -    عقل کا پرندہ۔
2 -    بے ہوش ہوگیا۔	
3 -    آگے۔
4 -    دروازہ۔
5 -    حدائقِ بخشش، حصہ اوّل، ص۱۷۸۔ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن اس شعر میں   معراج کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں  : معراج کی رات میرے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مقام ومرتبہ کی بلندی عقل کی سمجھ سے ماوراء ہے کیونکہ عقل کا پرندہ عرش تک ہی گیا اور بے ہوش ہوکر گر گیا کیونکہ اس کی رسائی ہی یہاں   تک تھی، اس کو کیا خبر کہ میرے آقا  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آستانہ عالیہ کی پہلی سیڑھی ہی اس سے کتنی آگے ہے۔
6 -    اُترنا۔
7 -    آسمانی کتابوں   کا نازل کرنا۔