صفات بھی قدیم ازلی ابدی ہیں ، اور ذات و صفاتِ باری تعالیٰ کے سوا سب چیزیں حادث و نَوپید، یعنی پہلے نہ تھیں پھر موجود ہوئیں ، صفاتِ الٰہی کو جو مخلوق کہے یا حادث بتائے گمراہ بے دین ہے۔اس کی ذات و صفات)تمام شِیُون (تمام نقائص تمام کوتاہیوں سے)وشِیْن و عَیْب(ہر قسم کے نقص ونقصان)سے اَوّلاً و آخر ًا بَری،(کہ جب وہ مجتمع ہے تمام صفاتِ کمال کا،(1) جامع ہے ہر کمال و خوبی کا، تو کسی عیب، کسی نقص، کسی کوتاہی کا اس میں ہونا محال، بلکہ جس بات میں نہ کمال ہو نہ نقصان وہ بھی اس کے لیے محال۔)(2)
ذاتِ پاک اس کی نِدّوضِد (نظیر و مُقابل )شبیہ و مِثْل ( مُشَابہ ومُمَاثل) کَیْف و کَم(کیفیت و مقدار) شَکْل و جِسْم و جِہَت و مکان و اَمَد (غایت وانتہا اور) زَمان سے مُنَزَّہ،(3) (جب عقیدہ یہ ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ قدیم ازلی ابدی ہے اور اس کی تمام صفات بھی قدیم ازلی ابدی ہیں تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ ان تمام چیزوں سے جو حادث ہیں یا جن میں مکانیت ہے یعنی ایک جگہ سے دوسری طرف نقل و حرکت ، یا ان میں کسی قسم کا
________________________________
1 - جب تمام خوبیاں اس میں پائی جاتی ہیں ۔
2 - کیونکہ اس کی ذَات و صفات ہمیشہ ہمیشہ سے تمام کوتاہیوں ، ہر قسم کے عیوب اور بُرائیوں سے پاک و صاف ہے اس لیے کہ وہ ہر کمال و خو بی کا جامع ہے اور ہر اُس چیز سے پاک ہے جس میں عیب و نقصان ہو، یعنی عیب ونقصان کا اس میں ہونا محال یعنی ناممکن،بلکہ جس بات میں نہ کمال یعنی خوبی ہو نہ نقصان وہ بھی اِس کے لیے محال ہے، مثلاً : جھوٹ، دھوکہ ، خیانت، ظلم، جہالت، بے حیائی وغیرہم عیوب اِس پر قطعاً محال ہیں ، اور یہ کہنا کہ جھوٹ پر قدرت ہے اِن معنوں میں کہ وہ جھوٹ بول سکتا ہے( لیکن بولتا نہیں ) محال کو ممکن ٹھہرانا اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو عیبی بتانا بلکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے اِنکار کرنا ہے، اور یہ سمجھنا کہ محالات یعنی ناممکنات پر قَادر نہ ہوگا تو قدرت کمزورو ناقص ہوجائے گی محض بَاطل اور بے بنیاد بات ہے کہ اس میں قدرت کا کیا نقصان، نقصان تو اِس محال کا ہے کہ اس میں قدرت سے متعلق ہونے کی صلاحیت ہی نہیں ۔
3 - پاک۔