اُمّتِ مرحومہ کہ کبیرہ گناہوں میں ملوث رہے ان کے لیے سوالِ بخشش) اور اس کے سبب اہل کبائر(1) کی نجات اِلٰی غَیْرِ ذَالِک مِنَ الْوَارِدَات(2) سب حق (ہے اور سب ضروری القبول)۔ (3)
جبر و قدر باطل (اپنے آپ کو مجبورِ محض یا بالکل مختار سمجھنا دونوں گمراہی)، وَلٰـکِنْ اَمْرٌ بَیْنَ اَمْرَیْن(4) (اختیارِ مطلق اور جبر محض کے بَیْن بَیْن(5) راہِ سلامتی، اور اس میں زیادہ غور و فکر سببِ ہلاکت، صدیق و فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اس مسئلہ میں بحث کرنے سے منع فرمائے گئے(6)ما و شما(7) کس گنتی میں )، جو بات ہماری عقل میں نہیں آتی (اس میں خواہ مخواہ(8) نہیں اُلجھتے اور اپنی اندھی اَوندھی (9) عقل کے گھوڑے نہیں دَوڑاتے، بلکہ) اس کو مَوکُول بَخُدَا کرتے (اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو سونپتے کہ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ) (10) اور اپنا نصیبہ { اٰمَنَّا بِهٖۙ-كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاۚ}(11)بناتے ہیں (کہ سب کچھ حق کی
________________________________
1 - بڑے بڑے گناہ گاروں ۔
2 - اس کے علاوہ اور بہت سے واقعات۔
3 - سب کا ماننا لازم۔
4 - لیکن معاملہ ان دونوں باتوں کے درمیان ہے۔
5 - درمیان۔
6 - المعجم الکبیر،من غرائب مسند ثوبان، ۲/۹۵،حدیث: ۱۴۲۳۔
7 - ہم اور تم۔
8 - بلاوجہ۔
9 - بے عقل اُلٹی سمجھ ۔
10 - اور درست اللّٰہ ہی جانتا ہے۔
11 - پ۳، اٰل عمرٰن: ۷۔